خلاصہ
- اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی عائد کیے جانے سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا۔
پی ٹی اے نے جمعرات کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی سے متعلق جعلی نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات غلط ہیں۔
پی ٹی اے نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور انہیں آگے پھیلانے سے گریز کریں۔
بیان میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ مستند معلومات کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کریں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں نامناسب اور قابل اعتراض مواد کی شکایات پر ٹک ٹاک کو ماضی میں متعدد مرتبہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
— PTA (@PTAofficialpk) November 5, 2026
پاکستان میں پہلی مرتبہ اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم انتظامیہ کی جانب سے قابل اعتراض مواد پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کے بعد 10 روز میں پابندی ختم کردی گئی تھی۔
مارچ 2021 میں پشاور ہائیکورٹ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی، جو اپریل میں ختم کردی گئی۔ اسی سال جون میں سندھ ہائیکورٹ نے بھی غیر اخلاقی مواد کی شکایات پر پی ٹی اے کو ٹک ٹاک تک رسائی معطل کرنے کا حکم دیا، تاہم تین روز بعد یہ حکم واپس لے لیا گیا۔
جولائی 2021 میں پی ٹی اے نے نامناسب مواد نہ ہٹانے پر ایک مرتبہ پھر ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی۔
اگست 2021 میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کرنے کے پی ٹی اے کے اختیارات پر سوالات اٹھاتے ہوئے اتھارٹی کو حکومت سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
بالآخر نومبر 2021 میں ٹک ٹاک انتظامیہ کی جانب سے نامناسب مواد کی روک تھام کی یقین دہانی کے بعد پی ٹی اے نے پابندی ختم کردی تھی۔