اب ایسے نہیں چلے گا!

اب ایسے نہیں چلے گا!

جو کام ماضی میں کوئی نہ کر سکا وزیر داخلہ محسن نقوی نے کر دکھایا، برسوں سے اسلام آباد میں قائم ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے حوالے سے حکومت نے بڑا فیصلہ سنا دیا، جہاں اب ایک فائیو سٹار ہوٹل بننے جا رہا ہے، اسلام آباد کے ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر، ایوانِ وزیراعظم ، دفتر خارجہ اور اعلیٰ عدالتوں سمیت سرکاری عمارتوں کے قریب واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو پاکستان کے مہنگے ترین اور متنازع ترین رئیل اسٹیٹ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کو اشرافیہ کا منصوبہ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے قیام سے اب تک ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہنے والی شخصیات جائیداد کی مالک رہیں، یہی وجہ ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کے باوجود یہ منصوبہ برسوں تک شاہراہ دستور پر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو بھی آنکھیں دکھاتا رہا۔

اس منصوبے کا سب سے بڑا تنازع زمین کے منظور شدہ استعمال میں تبدیلی تھی، ساڑھے 13 ایکڑ زمین پر قائم یہ منصوبہ ابتداء میں ایک فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کیلئے شروع کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے لگژری رہائشی اپارٹمنٹس اور کمرشل کمپلیکس میں تبدیل کر دیا گیا، اس منصوبے کی زمین 4.88 ارب روپے میں نیلام ہوئی تھی مگر کمپنی نے مکمل رقم ادا کئے بغیر ہی زمین کا قبضہ حاصل کر لیا، بعد کی ادائیگیوں میں بھی مسلسل تاخیر ہوتی رہی جس پر سی ڈی اے نے بھی آنکھیں بند کئے رکھیں۔

اس دوران زمین کی لیز، عمارت کے منظور شدہ استعمال، تعمیراتی قوانین، سی ڈی اے حکام کی مبینہ ملی بھگت، اربوں روپے کی عدم ادائیگی اور سیکڑوں خریداروں کے سرمایہ کاری کے حقوق ایسے معاملات بن گئے جنہوں نے اس منصوبے کو ایک بڑے قانونی اور انتظامی تنازع میں تبدیل کر دیا۔

سی ڈی اے نے یہ لیز 2016ء میں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دی تو معاملہ عدالت پہنچ گیا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 مارچ 2017ء کے فیصلے میں قرار دیا کہ متعلقہ زمین پر رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر اور ان کی فروخت غیر قانونی تھی کیونکہ زمین اس مقصد کیلئے مختص نہیں کی گئی تھی، تاہم جنوری 2019ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس منصوبے کو چلانے والی کمپنی بی این پی گروپ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور یہ حکم بھی دیا کہ بی این پی گروپ آٹھ برسوں کے دوران مزید ساڑھے 17 ارب روپے سی ڈی اے کو ادا کرے گا۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ کمپنی مقررہ وقت پر قسط دینے میں ناکام رہی تو سی ڈی اے کو لیز ختم کرنے کا اختیار ہوگا، یہ فیصلہ اس منصوبے کیلئے ایک نئی قانونی زندگی ثابت ہوا مگر مالی تنازع ختم نہ ہو سکا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے باجوود جب بی این پی کمپنی ادائیگی کا وعدہ پورا نہ کر سکی تو سی ڈی اے نے نوٹسز جاری کرنے کے بعد مارچ 2023 ء میں لیز منسوخ کرتے ہوئے عمارت کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا۔

اس کے بعد رہائشیوں کی کمیٹی سی ڈی اے کی نگرانی میں عمارت کے روزمرہ معاملات چلاتی رہی، بی این پی گروپ نے تکنیکی بنیادوں پر ریلیف لینے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ایک مرتبہ پھر رجوع کیا مگر مئی 2026ء میں یہ درخواستیں بھی مسترد ہوگئیں۔

ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد میں بری امام مزار کے قریب غیر قانونی آبادیوں کے خلاف آپریشن میں عام شہریوں کے گھر اور عمارتیں گرائی گئیں تو اسی دوران سی ڈی اے کی جانب سے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کا خالی کرانے کی کارروائی بھی شروع کر دی گئی، معاملے پر شور مچا تو وزیر اعظم کو نوٹس لینا پڑا، ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے رہائشیوں کا فوری انخلا روکتے ہوئے وزیر اعظم نے معاملے پر انکوائر ی کمیٹی بنا دی تو تنقید ہونے لگی کہ جب امیر کی جائیداد کے خلاف کارروائی ہونے لگی تو کمیٹی بن گئی اور غریب کا گھر گرا دیا گیا۔

کہا جانے لگا کہ ملک میں امیر کیلئے الگ قانون ہے اور غریب کیلئے الگ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس اقدام سے مایوس ہوئے مگر وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں یقین دہائی کرائی کہ انکوائری رپورٹ آنے پر میرٹ پر فیصلہ ہوگا۔

گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس معاملے پر انکوائری رپورٹ پیش ہوئی جس کے نتیجے میں فیصلہ ہوا کہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو ایک غیر قانونی منصوبہ ہے، یہ اب رہائشی اپارٹمنٹس کیلئے استعمال نہیں ہوگا بلکہ یہاں فائیو سٹار ہوٹل بنے گا، اس منصوبے کی لیز دوبارہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپارٹمنٹس کے مالکان کو حکومت رقم واپس کرے گی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جس کی جتنی رقم بنتی ہے وہ واپس کی جائے گی، یہاں اگلے چند ماہ میں ایک فائیو سٹار ہوٹل بنے گا، اس مقصد کیلئے کسی بڑی کمپنی سے معاہدہ کیا جائے گا، ساتھ ہی وزیر داخلہ نے اسلام آباد کے پوش سیکٹرز یعنی ایف 6، ایف 7 اور ایف 8 کے ان رہائشیوں کو بھی تنبیہ کی جنہوں نے اصل رقبے سے زائد جگہ پر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں انہیں خود ہی ختم کر دیا جائے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیر اعظم ہاؤس کے عقب میں غیر قانونی طور پر قبضہ کی گئی ایک ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی جا چکی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب وفاقی ترقیاتی ادارہ اسلام آباد میں بلا امتیاز کارروائیاں کر رہا ہے، جس میں امیر اور غریب کیلئے الگ قانون نہیں ہے، اسلام آباد میں سرکاری اراضی پر قائم سینکڑوں عمارتیں اور پلازے مسمار کئے جا چکے ہیں۔

تجاوزات کے خلاف آپریشنز میں کچھ ایسی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا بلکہ چند علاقوں کچھ عمارتوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سی ڈی اے کے پر جلتے تھے، کئی طاقتور شخصیات نے ان آپریشنز کو رکوانے کیلئے دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی جسے وزیر داخلہ نے مسترد کر دیا، اب ایسے اقدامات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جن میں قانون سب کیلئے برابر ہے، جس کا کریڈٹ بلا شبہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو ہی جاتا ہے کیونکہ ماضی میں سرکاری اراضی واگزار کرانے سمیت تجاوزات اور دیگر غیر قانونی اقدامات کے خلاف آپریشنز سیاسی مصلحتوں اور ملی بھگت کا شکار ہوتے رہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز قبل ایکسپریس وے کی گرین بیلٹ پر بنا اسلام آباد کا تھانہ کھنہ مسمار کروایا، اسلام آباد ایکسپریس وے کے ساتھ بیسیوں غیر قانونی پلازے بھی مسمار کئے جا چکے ہیں، ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سے متعلق حکومتی فیصلہ اب تمام طبقات کیلئے بڑا واضح پیغام ہے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے اور اب ایسے نہیں چلے گا۔