تازہ ترین
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 12 لاکھ 64 ہزار 384 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 26 ہزار 237 ہے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1440 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 12 لاکھ 9 ہزار 878 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 2 کروڑایک لاکھ 96 ہزار 19 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 1958 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 4 لاکھ 37 ہزار 793،سندھ میں 4 لاکھ 65 ہزار 486 کیسز،این سی اوسی
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 76 ہزار 774،بلوچستان میں 33 ہزار 120 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آبادایک لاکھ 6 ہزار 445،گلگت بلتستان میں 10 ہزار 369 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 34 ہزار 397 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی

کورونا وائرس کے بارے میں جعلی معلومات کو پھیلنے سے روکنے کا مطالبہ

Published On 19 July,2021 05:50 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) امریکی سرجن جنرل ویوک مورتھی کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ کووڈ 19 کی ویکسین کے بارے میں غلط معلومات پر کنٹرول میں مدد کریں جو امریکی ویکسی نیشن پروگرام کی سست روی کا باعث بن رہی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں حکومت کی مہم کے باوجود کئی ریاستوں میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کا عمل سست روی کا شکار ہے اور وہاں ویکسین لگوانے کی شرح 50 فیصد سے بھی کم ہے۔

کورونا کے تیزی سے پھیلنے والے مہلک ویرینٹ ڈیلٹا کے پھیلاؤ میں اضافے نے حکام کو پریشان کر دیا ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز ان ریاستوں میں زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں ویکسین لگوانے والوں کی تعداد کم ہے۔

مورتھی نے امسال کے شروع میں منصب سنبھالنے کے بعد سے پہلی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں انہوں نے صحت کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کو صحت عامہ کے لئے ایسا سنگین خطرہ قرار دیا ہے جس نتیجے میں ابہام اور بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے، لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور لوگوں کی صحت کو قائم رکھنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

سرجن جنرل نے کہا کہ غلط معلومات کی وجہ سے ایسے واقعات بھی پیش آئے جس میں صحت عامہ اور بیماریوں سے بچنے کے سلسلے میں معلومات فراہم کرنے یا ان پر عمل در آمد کرانے والے کارکنوں کو دھمکیاں دی گئیں اور انہیں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

مورتھی نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر عالمی وبا کے متعلق ملنے والی معلومات کی قابل بھروسا اور مستند ذرائع سے جانچ پڑتال اور اس کی درستگی کی تصدیق کریں۔ اگر آپ کو ان معلومات کے بارے میں شک و شبہات ہیں یا ان پر یقین نہیں ہے تو انہیں دوسروں تک پہنچانے سے اجتناب کریں۔

امریکی سرجن جنرل نے ٹیک کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ غلط معلومات کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اپنے نظاموں کو بہتر اور مستعد بنائیں۔

سرجن جنرل نے ڈس انفارمیشن اور مِس انفارمیشن کے درمیان فرق کو بھی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ مِس انفارمیشن کسی چیز کے بارے میں علم نہ ہوتے ہوئے اسے پھیلانا ہے جبکہ ڈس انفارمیشن یہ ہے کہ یہ ادراک ہونے کے باوجود کہ وہ غلط ہے، اسے اپنے مفاد کے لیے پھیلانا ہے۔ غلط اور گمراہ کرنے والی معلومات کو سوشل نیٹ ورکس پر جذباتی اور جارحانہ انداز میں پھیلایا جاتا ہے جس پر انہیں لائک اور کومنٹس بھی ملتے ہیں۔

سرجن جنرل کا کہنا تھا کہ غلط معلومات سے بچاؤ کے لیے آپ اپنے خاندان اور دوستوں کی بھی مدد کریں تاکہ وہ غلط معلومات کی وجہ سے نقصان میں نہ رہیں۔