تازہ ترین
  • بریکنگ :- اقلیتی برادری کو کوٹہ کے حقوق ملنےچاہئیں،وزیرخارجہ بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- اقلیتی برادری کےحقوق کےتحفظ کےلیےاقدامات اٹھانےچاہئیں،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- اقلیتی برادری کے حقوق کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- تمام پاکستانیوں کو یکساں حقوق دینے پر یقین رکھتے ہیں،بلاول بھٹو
  • بریکنگ :- سندھ حکومت میں غیر مسلم کی بھی نمائندگی ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- تقاریرنہیں،عملی اقدامات سےبہتری کی جانب بڑھ سکتےہیں،بلاول بھٹو

کرونا وائرس: پہلی بار امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کا آغاز

Last Updated On 16 March,2020 11:17 pm

نیو یارک: (ویب ڈیسک) چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کے حوالے سے پہلی بار امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کا آغاز ہو گیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق امریکا میں کرونا وائرس ویکسین کی آزمائش 16 مارچ کو انسانوں پر شروع ہوئی اور یہ تاریخ ساز ہے کیونکہ اتنی تیزی سے کسی ویکسین کا کلینیکل ٹرائل شروع نہیں ہوتا کیونکہ وائرس کا جینیاتی ویکسنس محض 2 ماہ قبل ہی تیار کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس: ٹرمپ صرف امریکا کیلئے ویکسین خریدنے کے متمنی، جرمن کمپنی کا انکار

تاہم ویکسین کی عام دستیابی میں ابھی کافی وقت درکار ہو گا، فی الحال اس کی آزمائش کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانوں کے لیے محفوظ ہے، اگر محفوظ ثابت ہوئی تو مستقبل قریب میں زیادہ افراد پر اس کا ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا کہ کس حد تک انفیکشن کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹس آف ہیلتھ انفیکشز ڈیزیز کے سربراہ انتھونی فیوسی کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے جس کے دوران اس کے محفوظ اور موثر ہونے کا تعین کیا جائے گا۔ اگر یہ منظوری کے مرحلے تک پہنچی تو یہ پہلی ویکسین ہوگی جس کی تیاری کے لیے میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) نامی جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی،

میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی کمپنی موڈرینا نے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین کو جلد از جلد یعنی 42 دن میں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ امریکا کی واشنگٹن ریاست میں 45 افراد پر اس کی آزمائش کا عمل شروع ہوا ہے جن کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں اور وہ سب صحت مند ہیں۔

اس ویکسین کی تیاری کے لیے وائرس کی نقول کی بجائے کورونا وائرس کی جینیاتی معلومات کی ضرورت پڑی اور 42 دن میں ویکسین کو ایچ آئی ایچ حکام تک پہنچا دیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس ویکسین کو ایم آر این اے کے ساتھ درست کورونا وائرس پروٹین کے کوڈز سے لوڈ کی گئی ہے جس کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔

جسم میں جانے کے بعد لمفی نوڈز میں موجود مدافعتی خلیات ایم آر این اے کو پراسیس کرتے ہیں اور ایسے پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جو دیگر مدافعتی خلیات کو وائرس کی شناخت اور تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ہماری ویکسین جسم کے لیے کسی سافٹ وئیر پروگرام کی طرح ہے، جو پروٹینز تیار کرکے مدافعتی ردعمل بناتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بھی 16 مارچ کو اب تک سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے جن کی تعداد 130ہے جبکہ مجموعی تعداد 183تک پہنچ گئی۔ دنیا بھر میں اب تک کرونا وائرس کے ایک لاکھ 75 ہزار کے قریب کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 67 سو سے زائد اموات اور 77 ہزار سے زائد صحت یاب ہوچکے ہیں، تاہم اب تک اس کا کوئی باقاعدہ علاج دستیاب نہیں۔