اسلام آباد:(دنیا نیوز) ملک میں پہلی بار مقامی سطح پر ادویات کی تیاری کی پالیسی کے تحت ویکسین فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
مقامی سطح پرادویات کی تیاری کی پالیسی کی دستاویز کے مطابق ملک میں چند برس میں ویکسین کا درآمدی بل ایک ارب 20 کروڑ ڈالر سے متجاوزہونے کا خدشہ ہے، مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری سے تقریبا 50 کروڑ ڈالر کی سالانہ بچت ہوگی۔ مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت ملک میں پہلی بار ویکسین فنڈ بنایا جائے گا۔
دستاویز میں بتایا گیا پالیسی کے تحت ایک سے دو سال کیلئے قلیل المدتی ایکشن پلان پالیسی کا حصہ ہے، مقامی ادویات تیاری پالیسی کے تحت ملک میں پہلی بار ویکسین فنڈ قائم کیا جائے گا، فنڈ ریاست کی ملکیت ہوگا، تجارتی اصولوں کےتحت پیشہ وارانہ انداز میں چلایا جائے گا۔
اِسی طرح سیکٹر میں سرمایہ کاری کی مسائل حل کرنے کیلئے اسی فنڈ سے سرمایہ کاری کی جائے گی، ویکسین کی تیاری سے کلینیکل ٹرائل تک اسی فنڈ کو استعمال کیا جائے گا، پالیسی میں ای پی آئی ویکسین کی تیاری کیلئے مشینری پر ٹیکس چھوٹ کی تجویز ہے۔
دستاویز میں بات بھی سامنے آئی کہ اس پالیسی کے تحت ڈریپ کی استعداد بڑھانے کا منصوبہ بنایا جائےگا، نیشنل کنٹرول لیبارٹری فار بائیولو جیکلزکی اپ گریڈیشن کی جائےگی، فنڈ مارکیٹ میں مناسب سرمایہ کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے اہم مالیاتی ذریعہ ہو گا، فنڈویکسین درآمد سے نکال کربرآمدی صلاحیت رکھنے والے مقامی مینوفیکچرنگ نظام کی طرف لےجائے گا۔
علاوہ ازیں ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کو سپرٹیکس میں 10 سال تک چھوٹ دینے، کمپنیوں کو کارپوریٹ ٹیکس اور انکم ٹیکس میں بھی ریلیف دینے کی تجویز ہے، ویکسین مینوفیکچررز کو برآمدی آمدن کا35 فیصد ڈالر میں رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔



