لاہور: (ویب ڈیسک) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اغوا نے انہیں اس مختصر فہرست میں شامل کر دیا ہے، جس میں وہ عالمی رہنما شامل ہیں جنہیں امریکا نے حملہ کر کے اٹھایا تھا۔
امریکا نے گزشتہ روز وینزویلا پر حملہ کیا اور امریکی ڈیلٹا فورس وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اٹھا کر لے گئی، وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر نکولس مادورو کو اغوا کر لیا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مادورو اور ان کی بیوی کو صدارتی محل میں ان کی خواہب گاہ سے پکڑ کر نیویارک لایا گیا ہے جہاں ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا ۔
مینول نوریگا

1989 میں امریکی افواج نے پاناما پر حملہ کیا اور سابق فوجی حکمران مینول نوریگا کو اٹھا لیا ، نوریگا ایک وقت میں امریکا کے اتحادی سمجھے جاتے تھے۔
مینول نوریگا کو بھی منشیات کے کاروبار کا الزام لگا کر اٹھایا گیا تھا، ان کو میامی لے جایا گیا، وہاں مقدمہ چلایا گیا اور بعد میں قید کیا گیا، بعدا زاں وہ 2017 میں پاناما کی جیل میں انتقال کر گئے۔
صدام حسین

امریکا نے عراق میں دسمبر 2003 میں سابق صدر صدام حسین کو اٹھا لیا، یہ اغوا امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے 9 ماہ بعد ہوا، امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین کے پاس کیمیائی اور ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار موجود ہیں، جو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ دعویٰ کبھی ثابت نہ ہوا بلکہ برطانیہ کے اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اس دعویٰ کو جان بوجھ کر گھڑنے کا اعتراف بھی کیا، لیکن بعد میں عراقی عدالت نے صدام حسین کے خلاف مقدمہ چلایا اور 2006 میں انہیں پھانسی دی گئی۔
جووان اورلینڈو ہرنانڈیز

لاطینی امریکی ملک ہونڈوراس کے سابق صدر جووان اورلینڈو ہرنانڈیز کو بھی 2022 میں منشیات اور بدعنوانی کے الزامات پر اغوا کرنے کے بعد امریکا منتقل کیا گیا، ٹرمپ نے 2025 کے آخر میں ان کو متنازعہ طور پر معاف کر دیا۔
امریکا تاریخی طور پر کئی بین الاقوامی رہنماؤں پر قاتلانہ حملوں میں بھی ملوث رہا ہے، لاطینی امریکا میں بالخصوص ناپسندیدہ رہنماؤں پر حملے کیے گئے۔



