2025: سندھ میں ملیریا، خیبر پختونخوا ڈینگی کیسز میں نمایاں رہا

Published On 03 January,2026 07:01 pm

اسلام آباد:(دنیا نیوز) گزشتہ سال سندھ میں سب سے زیادہ کیس ملیریا کے رپورٹ ہوئے، ہر ہزار میں سے 118 افراد ملیریا سے متاثر ہوا۔

ادارہ شماریات کے ڈیجیٹل سروے 25-2024 کے صحت کے حوالے سے سروے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے مطابق پنجاب میں ملیریا کی شرح سب سے کم رہی ۔

اِسی طرح رپورٹ کے بتایا گیا پنجاب میں ہر ایک ہزار میں 12 ملیریا کے کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ ڈینگی مریضوں میں خیبرپختونخوا سرفہرست رہا جہاں ہر ایک ہزار میں 5 افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے۔
تپِ دق کیسز سندھ اور خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ رپورٹ
سروے میں کہا گیا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہر ایک ہزار میں 4 افراد ٹی بی کے مریض رپورٹ ہوئے جب کہ بلوچستان میں شرح سب سے کم، ایک ہزار میں صرف ایک کیس کی رہی ۔
ہیپاٹائٹس سی پنجاب میں زیادہ پھیلا
رپورٹ میں کہا گیا کہ ہیپاٹائٹس سی پنجاب میں سب سے زیادہ پھیلا ہوا ہے، اُس کے بعد سب سے زیادہ کیسز خیبرپختونخوا میں رپورٹ ہوئے ، دیہی علاقو  میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کی شرح شہری علاقوں سے کہیں زیادہ رہی۔
نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی
سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، بچوں کی مجموعی اموات میں گزشتہ سروے کے مقابلے میں واضح کمی ہوئی، زچگی کے دوران ڈاکٹروں کے ذریعے ڈیلیوری میں نمایاں اضافہ ہوا، روایتی دائیوں کے ذریعے ڈیلیوری میں کمی صحت نظام میں بہتری کی علامت ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں زچگی کے کیسز میں واضح اضافہ ریکارڈ کیا گیا، نجی ہسپتالوں میں بھی زچگی کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا، بعد از زچگی طبی معائنے کا رجحان ملک بھر میں بہتر ہوا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بعد از زچگی چیک اپ کی شرح اب بھی کم ہے۔

علاوہ ازیں رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسہال کے علاج کے لئے سرکاری ڈاکٹروں سے رجوع میں اضافہ ہوا، دیہی علاقوں میں سرکاری صحت سہولیات کے استعمال میں بہتری ریکارڈ کی گئی، سرکاری ہسپتال نہ جانے کی بڑی وجوہات میں فاصلہ اور سہولت کی کمی شامل ہے۔