خلاصہ
- اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) پاکستان میں سولر سسٹم کے نظام میں تبدیلی کا فیصلہ ایوانِ سیاست میں بحث کا موضوع بن چکا ہے کیونکہ پاور ڈویژن اور نیپرا کی جانب سے جاری کئے گئے نئے ریگولیشنز نے سولر صارفین پربجلی گرا دی ہے۔
ان ضوابط کے تحت نیٹ میٹرنگ کو ختم کر کے نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے، سولر نیٹ میٹرنگ میں بجلی پیدا کرنے والے ایک عام صارف کو حکومت کی جانب سے 25 روپے فی یونٹ تک پیداواری نرخ ملتے تھے، یوں صارف کو یونٹ کے بدلے یونٹ جیسا پیکیج مل رہا تھا مگر نئی پالیسی میں عام صارف سے بجلی خریدنے کے نرخ ایک تہائی کم کر دیئے گئے ہیں، اگرچہ نئی پالیسی کا اطلاق نئے صارفین کیلئے کیا گیا ہے مگر پرانے صارفین بھی اس حکومتی پالیسی سے نہیں بچ پائیں گے۔
پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ کا آغاز 2015ء میں کیا گیا تھا اور صارفین کے ساتھ سات سال کے معاہدے کئے گئے، اس وقت پاکستان میں سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد چار لاکھ 66 ہزار ہے، ان میں سے سات سال قبل معاہدہ کرنے والے صارفین کی مدت ختم ہوتی جا رہی ہے اور انہیں اب نئے معاہدے کرنے ہیں، یوں وقت آنے پر ان نئے ریگولیشنز کا اطلاق نئے معاہدوں کی صورت میں پرانے صارفین پر بھی ہوگا۔
نئے ریگولیشنز کے مطابق اب سولر صارفین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی مدت سات سال کے بجائے پانچ سال ہوگی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اب صارف سے فی یونٹ بجلی 8 روپے 13 پیسے میں خریدیں گی جو پہلے تقریباً 25 روپے میں خریدی جا رہی تھی، یوں صارف سے بجلی خریدنے کے ریٹ میں تین گنا کمی کی گئی ہے جبکہ صارف ڈسکوز سے بجلی 35 سے 50 روپے فی یونٹ میں خریدے گا، یہ فرق اتنا بڑھ گیا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کو لاکھوں روپے کا سولر سسٹم لگوا کر بھی وہ بچت نہیں ہو پائے گی جو پہلے ممکن تھی۔
صرف یہی نہیں پرانے سولر صارفین کے بلوں میں تو ہر ماہ ایڈجسٹمنٹ کی جاتی تھی مگر نئی پالیسی کے تحت بجلی پیدا کرنے والوں کی ایڈجسٹمنٹ ہر تین ماہ بعد کی جائے گی، پالیسی میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد مزید پانچ سال کی تجدید ممکن ہوگی، ان نئے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا اطلاق بائیو گیس صارفین پر بھی ہوگا۔
پاور ڈویژن حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاور سیکٹر کے مالی نقصانات اور ٹیرف کو درست کرنے کیلئے اٹھایا گیا ہے کیونکہ سولر سے بجلی کی پیداوار بڑھنے کے باعث گرڈ بجلی کی فروخت میں 3.2 ارب یونٹس کی کمی واقع ہوئی ہے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کو آئی پی پیز سے بجلی نہ خریدنے کی صورت میں بھی رقم ادا کرنا پڑتی ہے، صرف ایک سال میں آئی پی پیز کو ادا کی جانے والی کیپیسٹی پیمنٹ کا حجم 2000 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اب حکومت کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اگر گرڈ پر عام صارف کا انحصار ختم ہوگیا تو سرکار سے بجلی کون خریدے گا اور آئی پی پیز سے کیے گئے معاہدوں کا کیا ہوگا؟ اگر صورتحال یہی رہی تو آنے والے برسوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا خسارہ بجلی نہ خریدے جانے کے باعث 550 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
نئی سولر پالیسی کے بعد پارلیمان میں شدید ردعمل سامنے آیا، اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس پالیسی کی شدید مخالفت کی، میڈیا پر ماہرین نے بھی حکومتی پالیسی پر تنقید کی جس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے معاملے کا نوٹس لیا۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے نیپرا کی جانب سے نئے ریگولیشنز کے اجرا کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ موجودہ صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے لیے نیپرا میں فوری اپیل دائر کی جائے تاکہ موجودہ کنٹریکٹس کا ہر ممکن تحفظ یقینی بنایا جا سکے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ سولر سے مستفید ہونے والے چار لاکھ 66 ہزار صارفین کا بوجھ نیشنل گرڈ استعمال کرنے والے تین کروڑ 76 لاکھ سے زائد صارفین پر نہ پڑے، اس حوالے سے پاور ڈویژن جامع لائحہ عمل تشکیل دے، یہ فیصلہ وزیر اعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اویس لغاری، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی اور مشیر نجکاری محمد علی سمیت متعلقہ حکام موجود تھے۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس نوٹس کے باوجود سولر انڈسٹری کیلئے زیادہ اچھی خبر نہیں ہے، اعلامیے میں صرف موجودہ صارفین کے تحفظ کی بات کی گئی ہے جبکہ نئے ریگولیشنز کا اطلاق تو پہلے ہی پرانے صارفین پر نہیں ہو رہا، ساتھ ہی یہ کہنا کہ سولر صارفین گرڈ صارفین پر بوجھ نہ بنیں، اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت ان سولر صارفین کو سسٹم پر بوجھ سمجھتی ہے، ایسے میں جن صارفین کے معاہدے ختم ہو رہے ہیں انہیں تجدید کی صورت میں پہلے جیسا فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، اس ساری صورتحال میں آنے والے دنوں میں ایک نیا بحران پیدا ہوتا نظر آ رہا ہے۔
ملک میں اب تک 32 ہزار میگاواٹ صلاحیت کا سولر انفراسٹرکچر امپورٹ ہو چکا ہے، ابھی آن گرڈ سولر صارفین صرف ساڑھے چھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ تقریباً 12 ہزار میگاواٹ کے آف گرڈ صارفین ہیں، ایسے میں اگر آن گرڈ صارفین کی حوصلہ شکنی ہوئی تو وہ نیشنل گرڈ سے ناطہ توڑ کر بیٹریوں کے استعمال (آف گرڈ) پر منتقل ہو جائیں گے۔
ملک میں بیٹریوں کی درآمد بڑھنا شروع ہو چکی ہے، کئی گھریلو سولر صارفین نے رات کے اوقات میں بیٹریوں کا استعمال شروع کر دیا ہے، یوں آنے والے مہینوں میں سرکاری بجلی کی طلب میں مزید کمی ہوگی اور کیپیسٹی پیمنٹ کا بوجھ ان پونے چار کروڑ صارفین پر بڑھے گا جو مکمل طور پر نیشنل گرڈ پر منحصر ہیں، حکومت کو شمسی توانائی سے متعلق ایسی متوازن پالیسی بنانی ہوگی کہ ملک کو مستقبل میں بجلی کی قیمتوں کے سنگین بحران سے بچایا جا سکے۔