ولیکا ہسپتال ایچ آئی وی کیس: غفلت ثابت ہوئی تو سخت کارروائی ہوگی، سعید غنی

ولیکا ہسپتال ایچ آئی وی کیس: غفلت ثابت ہوئی تو سخت کارروائی ہوگی، سعید غنی

شہر قائد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت نے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ اکتوبر 2025 کے آخر میں ہسپتال انتظامیہ کے علم میں مشتبہ ایچ آئی وی کیسز آئے، جس پر محکمہ کو خط لکھا گیا اور فوری طور پر سکریننگ شروع کرائی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 23 اکتوبر کو اس وقت کے کمشنر سیسی سے معلومات لینے پر کیسز کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد 29 اکتوبر کو انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، نومبر میں کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی، تاہم اس میں کسی فرد کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا، جس پر کمیٹی کو دوبارہ ذمہ داروں کی نشاندہی کی ہدایت کی گئی۔

سعید غنی نے کہا کہ بعد ازاں کمیٹی نے 10 افراد کو ذمہ دار قرار دیا، جنہیں شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ بعد کی انکوائری میں نامزد 37 افراد کو بھی شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے نومبر 2025 اور پھر 27 فروری کو ولیکا ہسپتال کا دورہ کیا جبکہ 15 نومبر 2025 کو شعبہ سی ٹی سی نے ہسپتال میں اپنا سینٹر قائم کرنے کی سفارش کی، اس دوران محتسب کو بھی شکایات موصول ہوئیں، جس کے حکم پر ایک اور انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو پہلے ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

وزیر محنت نے کہا کہ 8 جولائی کو گورننگ باڈی کے اجلاس میں بھی ایچ آئی وی کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور وزیراعلیٰ سندھ کو تمام صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے دو ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے، تمام متاثرہ بچوں کا علاج جاری ہے، انہیں ضروری سپلیمنٹس فراہم کیے جا رہے ہیں اور ان کی طبی معلومات قانون کے مطابق خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔

سعید غنی کے مطابق اس وقت 78 متاثرہ کیسز کا تصدیق شدہ ڈیٹا موجود ہے، تاہم سکریننگ میں اضافے کے ساتھ تعداد بڑھنے کا امکان موجود ہے، انہوں نے بتایا کہ اب تک 6 متاثرہ افراد انتقال کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لانڈھی سوشل سکیورٹی ہسپتال میں بھی تقریباً 2 ہزار افراد کی سکریننگ کی گئی ہے، اکتوبر میں ابتدائی طور پر 6 کیسز سامنے آئے تھے، بعد ازاں وسیع سکریننگ کے باعث مزید کیسز رپورٹ ہوئے۔

سعید غنی نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کی غلطی سامنے آئی ہے، تاہم حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ بچوں کو بہترین علاج اور سہولیات کی فراہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سکریننگ نہ کی جاتی تو اتنے کیسز سامنے نہ آتے جبکہ مزید سکریننگ سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔