ملکی ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے: احسن اقبال

ملکی ترقی کے لیے پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے: احسن اقبال

نیشنل سکول آف پبلک پالیسی میں پہلی دو روزہ پبلک پالیسی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے یکم اپریل کو پاکستان کے پاس ڈویلپمنٹ بجٹ کی آخری قسط دینے کے پیسے نہیں تھے،مرض کی درست تشخیص کے بعد ہی بیماری کا علاج ممکن ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان کو سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ہی منزل پر پہنچا سکتا ہے،ٹریکٹر اور چنگ چی کے پہیوں کے ساتھ گاڑی نہیں چل سکتی۔انہوں نے کہااس وقت پاکستان کو ملکی تاریخ کے بد ترین سیلاب کا سامنا ہے جبکہ دو صوبوں کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے،اتنی بڑی تباہی کے بعد سیلاب زدہ علاقوں کے افراد کو دوبارہ ان کے پائوں پر کھڑا کرنا بہت بڑا چیلنج ہے ۔

احسن اقبال نے کہا ہے کہ سوشل پالیسی ایک ڈرائونا خواب بن گئی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے مدد لیے بغیر مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے، ہمیں تین چیزوں دولت بڑھانے، دولت کی تقسیم اورگلوبل اکانومی پر توجہ دینی چاہیے،اسی سے ہی وسائل جنم لیں گے۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ایجوکیشن ،انٹر پرائز اور ایکسپورٹ پر توجہ مذکور کر کے معیشت کو آگے بڑھایاجا سکتا ہے، ملائشیا ویژن 2020 کے ذریعے ترقی کر سکتا ہے تو پاکستان بھی ایک روڈ میپ کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے،ہم سب کو غور و فکر کرنے اور پیداواری شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔مذکورہ پبلک کانفرنس میں سکالرز و دیگر شرکا نے سٹڈی پیپرز بھی پڑھے۔