توانائی بچت پالیسی پر کسی قسم کا تعطل برداشت نہیں کیا جائے گا: وزیر اعظم

توانائی بچت پالیسی پر کسی قسم کا تعطل برداشت نہیں کیا جائے گا: وزیر اعظم

بریفنگ میں بجلی کی کم کھپت والے پنکھے اور بلبز کی پیداوار کے حوالے سے بھی بتایا گیا، مجموعی طور پر 671 سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کا عمل شروع ہے، وزارتِ تعلیم کے تحت آنے والی 600 عمارتوں کے پاس اپنا بجٹ موجود ہے، 11 کلوواٹ کے فیڈرز کی سولرائزیشن کا عمل بھی شروع ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سولر پینلز اور الیکٹرک موٹر سائیکلز کی پیدوار کیلئے رائے لی جا رہی ہے، آئندہ ماہ پالیسی مکمل کرکے اس کو جاری کر دیا جائے گا، پاکستان میں نئے گیزرز کی تیاری میں کونیکل بیفلز کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، پرانے گیزرز میں بھی کونیکل بیفلز نصب کرنے کیلئے حکمتِ عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

بریفنگ کے مطابق انرجی ایفیشنٹ پنکھے اور بلب بنانے کیلئے بھی اقدامات مکمل ہیں، آئندہ مالی سال سے ملک میں زیادہ بجلی کی کھپت والے پنکھے اور بلب نہیں بنائے جائیں گے، اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ توانائی بچت پالیسی کے حوالے سے کسی قسم کا تعطل برداشت نہیں کیا جائے گا، تمام اقدامات پر معینہ مدت میں عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔