جماعت اسلامی کا 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

جماعت اسلامی کا 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ 26 ویں آئینی ترمیم پر پی ٹی آئی والوں کو شروع میں ہی کہہ دیا تھا کسی کے جال میں نہ آئیں، پی ٹی آئی کے لوگ مولانا فضل الرحمان سے مل کر اتفاق کرتے رہے، اگر انہوں نے مخالفت کرنی تھی تو اتفاق کیوں کررہے تھے، اس سے معاملہ مشکوک ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مک مکا کر کے 26ویں آئینی ترمیم منظور کروا لی، آئینی ترمیم پر جو لوگوں خریدو فروخت میں شریک رہے ان کا نام تاریخ میں اچھے لفظوں سے نہیں لیا جائے گا، 26ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ پر قبضہ کیا گیا، جماعت اسلامی نے فیصلہ کیا ہے آئینی ترمیم پر عدلیہ سے رجوع کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے آئینی ترمیم کرکے اچھا نہیں کیا، پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی میں نام کیوں دئیے، نام دے کر شرکت نہ کرنے سے معاملہ مشکوک ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے قانون پر عمل کرنے کے بجائے سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو قیدی بنایا جاتا ہے، پاکستان میں سیاسی قیدیوں کو رہا ہونا چاہئے، حکومت ایسے اقدامات کرے کہ سیاسی قیدی رہا ہو جائیں اسے ہم اچھا اقدام سمجھیں گے۔