مارچ 2025 دس سال میں سکیورٹی کے اعتبار سے خطرناک ترین مہینہ قرار

Published On 01 April,2025 05:17 pm

اسلام آباد: (ذیشان یوسفزئی) رواں برس کے تیسرا مہینے میں دہشتگردی میں بھاری اضافہ ہوا، مارچ دس سال کے دوران سکیورٹی کے اعتبار سے خطرناک ترین مہینہ قرار دیا گیا۔

اسلام آباد میں موجود دہشت گردی پر کام کرنے والے تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) نے رپورٹ جاری کر دی۔

رپورٹ کے مطابق ایک دہائی میں پہلی بار کسی ایک ماہ میں عسکریت پسند حملوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی، جو نومبر 2014 کے بعد سب سے زیادہ ہے، ڈیٹا کے مطابق مارچ 2025 میں 105 دہشتگرد حملے ہوئے، جن میں 228 جانبحق ہوئے۔

جانبحق ہونے والوں میں 73 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری اور 88 عسکریت پسند شامل تھے حملوں میں 258 افراد زخمی ہوئے، جن میں 129 سیکیورٹی اہلکار اور اتنی ہی تعداد میں عام شہری شامل ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 107 افراد مارے گئے، جن میں 83 عسکریت پسند، 13 سیکیورٹی اہلکار اور 11 عام شہری شامل تھے، مارچ میں 6 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے، جو حالیہ برسوں میں کسی بھی ایک ماہ میں سب سے زیادہ ہیں۔

ان حملوں میں 59 افراد مارے گئے، جن میں 15 عام شہری، 11 سیکیورٹی اہلکار اور 33 عسکریت پسند شامل تھے، جبکہ 94 افراد زخمی ہوئے، جن میں 56 سیکیورٹی اہلکار اور 38 عام شہری شامل ہیں، تین حملے بلوچستان، دو خیبرپختونخوا کے مرکزی اضلاع، اور ایک سابقہ فاٹا (موجودہ ضم شدہ اضلاع) میں ہوا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مارچ 2025 میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے نشانے پر رہے۔