بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے کیلئے ریاست کے دروازے کھلے ہیں: سرفراز بگٹی

بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے کیلئے ریاست کے دروازے کھلے ہیں: سرفراز بگٹی

بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ خاران میں دہشت گردوں کےمذموم عزائم کوناکام بنادیا گیا ہے، اب دہشت گردوں کا فوکس بینک لوٹنا ہے، سکیورٹی فورسزکی بروقت کارروائی میں4دہشت گردوں کوموقع پرہلاک کیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ فرار ہونے والے مزید 8 دہشت گردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا، کرنل ودان اور میجر عاصم آپریشن میں زخمی ہوئے، آپریشن کے دوران 12 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، دہشتگرد بلوچ عوام کے پیسے لوٹنے کے لیے خاران میں داخل ہوئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ سکیوٹی فورسز کے شیر جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، دہشتگرد 34 لاکھ روپے نیشنل بینک پاکستان کے اپنے ساتھ لے گئے، سکیورٹی فورسز اور کے جوانوں کے خون کی قدر کرتے ہیں، گزشتہ سال 900دہشتگرد مارے گئے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ خاران کے لوگوں نے ان دہشت گردوں کو مسترد کردیا، 3 ارب روپے سے بلوچستان کے تمام سرکاری سکول، کالجز، یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں میں فائبر انٹرنیٹ فراہم کریں گے، خاران میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بلوچستان میں میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں کی۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں آن لائن ٹیسٹ سسٹم متعارف کروا رہے ہیں، ہتھیار ڈالنے کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں، 30 سال تک ہم انہیں حقوق کی جنگ کا نام دے رہے تھے، بولان قومی شاہراہ ترقیاتی کام کے سلسلے میں رات کے وقت بند کی جاتی ہے۔