جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے: پاکستان

جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے: پاکستان

پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن و انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یا مصلحت کے آگے جھکے گا تو عدم استحکام گہرا ہوگا، تنازعات مزید جڑ پکڑ لیتے ہیں اور پر امن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کرتی ہیں، پاکستان نے خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے، بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرکے جارحیت کا ارتکاب کیا۔

مستقل مندوب نے خطاب کرتے کہا کہ پاکستان نے حق دفاع کو ذمہ دارانہ محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا، پاکستانی ردعمل نے واضح کردیا جبر کسی طور پر قبول نہیں، ریاستوں کے مابین واحد معیار بین الاقوامی قانون کا احترام ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ جبر یا استثنیٰ سے جنم لینے والا جو کوئی بھی نیا معمول ہو وہ قابل قبول نہیں، کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھنا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھارت کشمیریوں پر مظالم کرکے پائیدار امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، یکطرفہ بھارتی اقدام خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

مستقبل مندوب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پانی اور دیگر قدرتی و سائل کو ہتھیار بنانے کے تصور کو مسترد کرتا ہے۔