پاکستان اور اسلامی فوجی اتحاد کا دہشت گردی سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ

پاکستان اور اسلامی فوجی اتحاد کا دہشت گردی سے نمٹنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ

آئی ایم سی ٹی سی کا 17 رکنی وفد 2 سے 6 فروری تک نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں انتہا پسند عناصر کے دوبارہ انضمام اور بحالی کے موضوع پر ایک ہفتہ کی تربیت کے لیے پاکستان کا دورہ کر رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا، خصوصاً علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا، دونوں فریقوں نے باہمی تعاون پر مبنی حکمت عملیوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور رکن ممالک کے درمیان صلاحیتوں کی تعمیر کے ذریعے دہشت گردی اور انتہا پسندی‘ سے نمٹنے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلامی دنیا میں استحکام کو فروغ دینے اور انسداد دہشت گردی کے مربوط اقدامات کو فروغ دینے میں آئی ایم سی ٹی سی کے کردار کو سراہا۔

یہ بھی پڑھئے: لیبیا کی افواج کے کمانڈر کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سے ملاقات

میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی نمایاں خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گی کہ ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فریقین کے عزم پر زور دیا گیا۔

خیال رہے کہ آئی ایم سی ٹی سی 43 ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد ہے جو دسمبر 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا تاکہ مسلم ممالک کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو یکجا کیا جا سکے، اس اتحاد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، افغانستان، مصر، اردن، قطر، فلسطین، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک شامل ہیں۔