چینی سفیر کی بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

چینی سفیر کی بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

  چین کے سفیر جیانگ ژی ڈونگ کا وزارت داخلہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیرمقدم کیا، اس موقع پر وزیر داخلہ اور چینی سفیر کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی۔

چینی سفیر نے بلوچستان میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور اظہارِ تعزیت کیا اور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، چین ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین مضبوطی سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی ایک منظم اور طے شدہ منصوبے کے تحت کی گئی، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر رسپانس دیا، انہوں نے چینی سفیر کو بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے بروقت اور مؤثر آپریشنز سے آگاہ کیا اور چینی شہریوں اور چینی منصوبوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔

وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ چینی شہریوں اور پراجیکٹس کی حفاظت انہیں بے حد عزیز ہے، پاک چین دوستی کو دشمن کسی صورت نقصان نہیں پہنچا سکتا، چینی شہریوں کو ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کرنا حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے سپیشل پروٹیکشن یونٹ تشکیل دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے خلاف مربوط آپریشنز کے لیے جدید چینی ٹیکنالوجی اور سازوسامان معاون ثابت ہوگا، وزیر داخلہ نے چینی سفیر کو اپنے حالیہ کامیاب دورۂ چین سے بھی آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ اس ملاقات میں انسدادِ دہشتگردی، داخلی سلامتی اور سیکیورٹی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا جب کہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور سائبر کرائمز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا، پاک چین سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

چینی سفیر نے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے کیے گئے اقدامات پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا جب کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی ہر موقع پر غیر متزلزل حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، سپیشل سیکرٹری داخلہ اور چینی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔