خلاصہ
- چارسدہ:(دنیا نیوز) سربراہ جے یو آئی مولانا فضلِ الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی واضح خارجی یا داخلی پالیسی موجود نہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی پالیسی پارلیمنٹ کے اندر مشاورت سے بننی چاہیے، تمام اداروں کو سنا جائے اور مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں بنی، اسی لیے ناکام ہے، قومی یکجہتی اور معاشی استحکام کے لیے ملک میں عام انتخابات ناگزیر ہیں، پارلیمنٹ پر عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہے، ملک معاشی طور پر آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کا یرغمال ہے۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ کے پی حکومت کے پاس حقیقی اختیارات نہیں، فیصلے اسٹیبلشمنٹ اور وفاق کرتے ہیں، پالیسی ساز ادارے پالیسی بنانے میں ناکام ہو چکے ، اسی وجہ سے حکومتیں ناکام ہو رہی ہیں، ملک میں کوئی واضح خارجی یا داخلی پالیسی موجود نہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے، خطے میں عدم استحکام کے پیچھے امریکی پالیسیاں کارفرما ہیں، فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے ایک فرد کی مرضی سے ہو رہے ہیں، عوامی مسائل کا حل صرف جمہوری عمل سے ممکن ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کے وسائل پر صوبوں کا حق تسلیم کیا جائے، تیراہ کے عوام کو بے دخل کیا گیا، آبادکاری کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے، ایران اور افغانستان میں جنگ پھیلنے کے خدشات ہیں۔