خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری ہیں جبکہ دارالحکومت کی مصروف ترین شاہراہ دستور بھی مکمل بند ہے۔
تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی الشفا آئی ہسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا، ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی علاج شروع نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق حکومت نے عمران خان کے طبی معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جس کی سفارش کی روشنی میں ہسپتال منتقل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے دھرنے کے مظاہرین کو کھانے، پانی اور ادویات تک رسائی روکنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
ترجمان تحریک تحفظ آئین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مظاہرین کی بنیادی سہولیات تک رسائی پر پابندی غیر انسانی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک کی قیادت اپنے مطالبات پر پوری ثابت قدمی کے ساتھ قائم ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، محاصروں اور جبر کے ہتھکنڈے کبھی بھی تحریکیں دبانے میں کامیاب نہیں ہوئے، ایسے اقدامات صرف ظلم کے ریکارڈ میں اضافہ کرتے ہیں اور حق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتے۔
قائد حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کی ادویات تک رسائی روکنے کو تحریک نے سنگین اور قابلِ مذمت عمل قرار دیا اور کہا کہ کسی بھی سیاسی اختلاف کو انسانی ہمدردی اور طبی ضرورتوں پر فوقیت دینا ظلم کی بدترین شکل ہے۔
ترجمان نے اعلان کیا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان ظلم، جبر اور محاصرے کے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگی اور یہ جدوجہد آئین، قانون اور عوامی حقِ نمائندگی کے تحفظ کیلئے جاری رہے گی، جسے کسی صورت دبایا نہیں جا سکتا۔