خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ حکومت واضح کرنا چاہتی ہے کہ قیدی کی حیثیت کے باوجود عمران خان کو تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ توار کی دوپہر بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ اڈیالہ جیل کے اندر حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ کرایا گیا۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ حکومت نے ہر ضروری سہولت موقع پر فراہم کی تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کا سوال پیدا نہ ہو، خصوصی طور پر Slit Lamp، OCT Scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی ایمبولینس جیل کے اندر پہنچائی گئی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز کے ڈاکٹر عارف اور شفاء ہسپتال کے ڈاکٹر ندیم قریشی نے فزیکل ایگزامینیشن کیا، سینئر ماہرین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر مرزا کانفرنس کال کے ذریعے شامل رہے جبکہ بیرسٹر گوہر کو بھی تمام پیش رفت سے آگاہ رکھا گیا۔
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) February 16, 2026
طارق فضل چودھری کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سوجن میں واضح کمی آئی ہے، بینائی میں بہتری آ رہی ہے، کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے خاندان کو بھی باقاعدہ مطلع کیا کہ وہ معائنے کے دوران موجود رہ سکتے ہیں، تاہم خاندان کی جانب سے کوئی نمائندہ نہیں آیا، اس کے باوجود تمام کارروائی آزاد ماہرین کی نگرانی میں کی گئی۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ ایک ڈوز Eylea انجکشن دی جا چکی ہے اور دوسری ڈوز 25 فروری کو دی جائے گی، ماہرین کی رائے میں Vabysmo ایک متبادل ہو سکتا ہے، موجودہ علاج کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اس لیے فی الحال Eylea جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلا مرحلہ angiogram ہے، جس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو لیزر ٹریٹمنٹ پر فیصلہ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو معیاری علاج مہیا کرے، اور اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی گئی۔