اونر شپ ایکٹ کے تحت کمیٹیوں کے تمام فیصلے کالعدم، درخواستیں ٹریبونل کو منتقل

اونر شپ ایکٹ کے تحت کمیٹیوں کے تمام فیصلے کالعدم، درخواستیں ٹریبونل کو منتقل

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی، فل بینچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے عدالت میں پنجاب پراپرٹی اونر شپ سے متعلق نیا ترمیمی آرڈیننس پیش کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ زیر التوا درخواستوں کے دوران قانون میں اہم ترامیم کی گئی ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق نئے آرڈیننس کے تحت ڈی آر سی کمیٹیوں سے جوڈیشل اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں، شکایت درج کرانے کے لیے بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، اختیارات ایگزیکٹو سے واپس لے کر ٹریبونل کو منتقل کر دیے گئے ہیں، ریٹائرڈ ججز کی بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹریبونل میں تعینات کیا جائے گا، ٹریبونل 30 روز کے اندر درخواست پر فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اگر کوئی معاملہ پہلے سے کسی عدالت میں زیر سماعت ہو تو شکایت کنندہ ٹریبونل میں منتقلی کی درخواست دے سکے گا، جس پر متعلقہ عدالت ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کیس ٹریبونل کو منتقل کیا جائے یا نہیں۔

مزید برآں ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف آئینی عدالت، سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ سے رجوع کیا جا سکے گا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ قانون میں واضح تبدیلیاں آ چکی ہیں اور قانون کے غیر آئینی ہونے سے متعلق درخواستوں کو بعد میں دیکھا جائے گا۔

عدالت نے اپنے حکم میں ڈی آر سی کمیٹیوں کی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے تمام زیر التوا درخواستیں ٹریبونل کو منتقل کرنے کی ہدایت کی اور حکم دیا کہ ٹریبونل نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت تمام درخواستوں کو سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔