پاکستان علماء کونسل کا افغان عبوری حکومت کو مناظرے کا چیلنج

پاکستان علماء کونسل کا افغان عبوری حکومت کو مناظرے کا چیلنج

چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ علماء اسلام کا وفد بنایا جائے ہم بھی اپنا موقف پیش کرتے ہیں آپ بھی اپنا موقف لے آئیں، قرآن و سنت کے احکامات سے تمام چیزیں واضح ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کے ذمہ داران اور افغانی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ چیئرمین پاکستان علماء کونسل و کوآرڈی نیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی اور پاکستان کے علماء کے خلاف جو مہم چلا رہے ہیں ان کو چیلنج کیا جاتا ہے۔

حافظ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ وہ علماء اسلام کے نام متعین کریں جن کی موجودگی میں پاکستان کے علماء اپنا موقف پیش کریں گے، طالبان اپنا موقف پیش کریں اور قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ کر لیا جائے۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ فیصلہ کر لیں کہ جو دہشت گردی پاکستان میں افغان عبوری حکومت کی سرپرستی میں ہو رہی ہے وہ شرعاً جائز ہے یا نا جائز ہے۔

حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ فیصلہ کر لیا جائے کہ کیا پاکستان کی حکومت کا اس دہشت گردی کے جواب میں جو رد عمل ہے وہ درست ہے یا نہیں ہے، قرآن و سنت سے واضح ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ افغان عبوری حکومت کے ذمہ داران اور ہندوستانی اور افغانی ذرائع ابلاغ کے دہشت گرد اس چیلنج کو کبھی بھی قبول نہیں کریں گے، ہماری طرف سے ہر وقت یہ چیلنج موجود ہے اور ہم اس کیلئے حاضر ہیں۔