اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کا اعلان، لاہور ہائیکورٹ بار کا الیکشن متنازعہ ہوگیا

اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کا اعلان، لاہور ہائیکورٹ بار کا الیکشن متنازعہ ہوگیا

الیکشن بورڈ نے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار بابر مرتضیٰ کو کامیاب قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے موقع پر احسن بھون گروپ اور حامد خان گروپ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا، الیکشن کے دوران ممبر پنجاب بار کونسل مقصود کھوکھر کا ووٹ درست کاسٹ نہ ہونے پر تنازع شروع ہوا جس کے بعد احسن بھون گروپ نے شدید احتجاج کیا۔

بائیو میٹرک کے آئی ٹی انچارج نے انکوائری کی جس میں گھپلا سامنے آیا تاہم اس موقع پر الیکشن بورڈ نے پولنگ کا عمل روک دیا اور مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ پہلے ہی نتائج کا اعلان کر دیا۔

الیکشن بورڈ کے نتائج کے مطابق لاہور ہائیکورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں حامد خان گروپ کے بابر مرتضیٰ 6 ہزار 234 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ احسن بھون گروپ کے راجہ عامر خان 3 ہزار 781 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

سیکرٹری کی نشست پر قاسم اعجاز سمرا 5 ہزار 429 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، ان کا کہنا تھا کہ مجھے حامد خان ، احسن بھون گروپ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ مدمقابل لہراسپ حیات ڈاھر 18سو ووٹ حاصل کرسکے۔

نائب صدر کی نشست پر سہیل قیصر تارڑ 4 ہزار 160 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ ملک علی رضا کھوکھر 2068 ووٹ لے کر فنانس سیکرٹری منتخب ہوئے۔

احسن بھون گروپ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے صدارتی امیدوار راجہ عامر کو لے کر ہائیکورٹ بار کے صدر کی نشست پر بیٹھ گئے۔

اس موقع پر راجہ عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا وکلا برادری نے مجھے لاہور ہائیکورٹ بار کا نیا صدر قرار دے کر صدر کے دفتر میں بٹھا دیا ہے، میں پیر لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر کی حیثیت سے کام شروع کروں گا اور اپنی پریس کانفرنس بھی کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ بار میں حامد خان گروپ نے جعلی ووٹ پکڑے جانے پر اپنی واضح شکست دیکھ کر تین بجے ووٹنگ رکوا دی اور سوا تین بجے بے وقوفانہ طریقے سے جعلی الیکشن رزلٹ کا اعلان کر دیا۔

اس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ جعلی ووٹوں کا فرانزک کیا جائے گا جس پر حامد خان گروپ الیکشن ریکارڈ اٹھا کر لے گئے۔

راجہ عامر نے مزید کہا کہ حامد خان گروپ نے پولنگ کا وقت ختم ہونے سے دو گھنٹے قبل انتہائی بھونڈے طریقے سے الیکشن کے جعلی نتیجے کا اعلان کر دیا، حامد خان گروپ انتخابات میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر، آئی ٹی کا ریکارڈ اور سروراور ریکارڈ اُٹھا کر لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کا ریکارڈ اور لاہور ہائیکورٹ کے اثاثے اٹھانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، دو مارچ بروز پیر کو دس بجے صبح لاہور ہائیکورٹ کے کراچی ہال میں ہمارے گروپ کی فتح کا جشن منایا جائے گا۔

دوسری جانب حامد خان گروپ کے صدارتی امیدوار بابر مرتضیٰ نے اپنی جیت پر وکلا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج آئین اور قانون کی بالادستی ہوئی، پیر کے روز کامیابی کا بھرپور جشن منایا جائے گا۔

اس موقع پر حامی وکلاء نے شدید نعرے بازی بھی کی، ہائیکورٹ بار کے الیکشن کے موقع پر سکیورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔