خلاصہ
- لاہور: (محمد اشفاق) لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی پنجاب عبدالکریم کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر تحریری حکم جاری کرتے ہوئے خاتون امیدوار کو سب انسپکٹر کے عہدے پر فوری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے سیدہ عامرہ بتول کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے، عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرنا انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کیا گیا مشروط تعیناتی کا آرڈر عدالتی حکم کی حقیقی تعمیل نہیں تھا، مزید کہا گیا کہ انٹرا کورٹ اپیل خارج ہونے کے بعد ہائی کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے محکمہ پولیس کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیلئے 30 دن کی حتمی مہلت دیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر تعمیلی رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار (جوڈیشل) کے پاس جمع کرائی جائے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ مقررہ وقت میں حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں خاتون امیدوار دوبارہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کرنے کی مجاز ہوگی۔
بعدازاں عدالت نے سب انسپکٹر کی تعیناتی کی مہلت دیتے ہوئے آئی جی پنجاب کیخلاف توہینِ عدالت کی درخواست نمٹا دی۔