خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے خود پیپلز پارٹی سے رابطہ کر کے حکومت سازی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، اس لیے مسلم لیگ (ن) پر تنقید یا الزام تراشی کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تقریباً 28 فیصد جبکہ مسلم لیگ (ن) نے 22 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
انہوں نے کہا کہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی نے 10 اور مسلم لیگ (ن) نے 6 نشستیں جیتیں، جبکہ دو آزاد امیدوار بھی مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ تھے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بخوبی جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے انتخابات کے 72 گھنٹوں کے اندر صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطہ کیا تھا اور گلگت بلتستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو سنگل لارجسٹ پارٹی تسلیم کرتے ہوئے حکومت سازی میں حمایت کا عندیہ دیا تھا۔
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) June 13, 2026
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کا مقصد گلگت بلتستان کو ہارس ٹریڈنگ اور سیاسی سودے بازی سے بچانا تھا، تاہم اس کے باوجود پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے خلاف الزام تراشی اور توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا کوئی جواز نہ تھا اور نہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 جون کو چند حلقوں میں ہونے والے جزوی انتخابات کے انعقاد کی مکمل ذمہ داری مقامی شکایت کنندگان اور الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) کی ایک نشست کے نتائج کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ کراچی میں مقامی حکومت حاصل کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے والے اور مسلم لیگ (ن) کی ضمانت پر ایم کیو ایم سے کیے گئے وعدوں سے پھرنے والے افراد لاہور میں حکومت سازی پر مسلم لیگ (ن) کو طعنے نہیں دے سکتے۔
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کی قیادت کا احترام کرتی ہے، تاہم احترام یک طرفہ نہیں ہو سکتا اور باہمی سیاسی تعلقات میں دونوں جانب سے احترام ضروری ہے۔