عظمت محرم اور درسِ صبر و استقامت

عظمت محرم اور درسِ صبر و استقامت

محرم الحرام نہ صرف تقویمی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اس کی روحانی، اخلاقی اور تاریخی حیثیت بھی بے مثال ہے، یہ مہینہ اُمت کو وقت کی قدر، قربانی کی عظمت اور حق کیلئے استقامت کی تعلیم دیتا ہے، اس مہینے کو نبی کریمﷺ نے اللہ کا مہینہ فرمایا اور اس میں روزوں کی فضیلت کو اجاگر کیا۔

محرم کا سب سے فضیلت والا دن ’’شورا‘‘ یعنی 10 محرم ہے، جو تاریخ انسانیت میں کئی انقلابی واقعات کا دن ہے، اس دن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کیلئے نجات کا دن بنایا، حدیث مبارکہ ہے کہ ’’یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ اور ان کی قوم کو نجات دی‘‘ (صحیح بخاری:2004)، نبی اکرمﷺ نے اس دن روزہ رکھنے کو باعث اجر قرار دیا اور اس کے ذریعے پچھلے سال کے گناہوں کی معافی کی امید ظاہر فرمائی، ’’مجھے اللہ سے اُمید ہے کہ عاشورا کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا‘‘ (صحیح مسلم:1162)۔

حرمت والے مہینوں کا قرآنی تصور

اسلامی تقویم میں چار مہینے ایسے ہیں جنہیں حرمت والے مہینے کہا جاتا ہے، ان مہینوں کو اللہ تعالیٰ نے امن، عظمت، اور عبادت کیلئے خاص فرمایا ہے، جن میں محرم الحرام، رجب، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ شامل ہیں، قرآنِ مجید نے ان مہینوں کی حرمت کا نہایت بلیغ انداز میں ذکر کیا: ’’بیشک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، تو ان میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو‘‘(سورۃ التوبہ : 36)، یہ آیت مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ زمان و مکان کا شعور، اسلام میں صرف کیلنڈر کی ترتیب نہیں بلکہ دینی شعور اور اخلاقی ترتیب کا حصہ ہے۔

ان مہینوں میں ظلم، فساد اور جھگڑوں سے باز رہنے کی خاص تاکید کی گئی، کیونکہ ان دنوں کی عظمت میں کوتاہی صرف فرد کا نقصان نہیں بلکہ اجتماعی اخلاقی نظام کو متاثر کرتی ہے، اسی لیے مفسرین لکھتے ہیں کہ ’’اپنی جان پر ظلم نہ کرو‘‘ سے مراد گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ اپنے نفس، ایمان، وقت اور عمل کی حفاظت کرنا ہے، یہ حرمت والے مہینے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عبادت کا حسن صرف عمل میں نہیں، وقت کی عظمت کو پہچاننے میں بھی ہے، جب اللہ نے اوقات کو خاص کر دیا، تو ہمیں چاہیے کہ ان مہینوں کو روحانی ترقی، توبہ، اصلاحِ نفس اور تعلق مع اللہ کیلئے استعمال کریں۔

ایک باوقار مہینہ

محرم الحرام کو اللہ کا مہینہ قرار دیا گیا ہے، یہ نسبت خود اس مہینے کی شان کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود سے منسوب فرمایا، رسولِ اکرمﷺ نے اس مہینے کی فضیلت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں‘‘(صحیح مسلم: 1163)، یہ ارشادِ نبویؐ اس بات کی دلیل ہے کہ محرم نہ صرف تقویم کا پہلا مہینہ ہے بلکہ روحانیت، عبادت اور قربتِ الٰہی کیلئے بھی یہ ایک خاص موقع ہے، اس مہینے میں روزے رکھنا محض رسم نہیں بلکہ نفس کی تطہیر، تقویٰ کی ترقی، اور ایمان کی تجدید کا ذریعہ ہے۔

’’اللہ کا مہینہ‘‘ کہہ کر نبی کریمﷺ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ سال کے آغاز کو اللہ کی بندگی اور عبادت سے مزین کریں تاکہ پورا سال برکت اور تقویٰ سے بھرپور گزرے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں دلوں کو جھکانا، آنکھوں کو رُلانا اور عمل کو سنوارنا امتِ مسلمہ کی فطرت کا حصہ ہونا چاہیے۔

یومِ عاشورا کی فضیلت

یومِ عاشورا یعنی محرم کی دسویں تاریخ، تاریخ انسانیت میں ایک ایسا دن ہے جسے نبوی سنت، توحیدی روایت، اور اصلاحی پیغام کی بنا پر ایک منفرد مقام حاصل ہے، یہ دن نہ صرف اسلام کے بعد بلکہ اس سے قبل بھی ایک محترم اور باوقار دن مانا جاتا رہا ہے، جب رسول اللہﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپﷺ نے یہود کو یومِ عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا، آپﷺ نے دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی تھی، اس پر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں‘‘(صحیح بخاری: 2004)

پھر آپﷺ نے خود روزہ رکھا اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس روزے کی تلقین فرمائی، آپﷺ نے فرمایا کہ ہمیں یہودیوں سے مشابہت اختیار نہیں کرنی چاہیے، اس کے پیش نظر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’آئندہ سال میں زندہ رہا تو نویں کا روزہ بھی رکھوں گا‘‘(صحیح مسلم: 1134)، علماء کرام کی روشنی میں 9 اور 10 یا 10 اور 11 محرم کے روزے رکھنا افضل ہے، تاکہ عاشورا کا روزہ ایک مستقل اسلامی شعور کا مظہر بنے، نہ کہ کسی اور قوم کی مشابہت کا۔

اسی روزے کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ یومِ عاشورا کا روزہ ایک سال کے پچھلے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا‘‘(صحیح مسلم: 1162)، یومِ عاشورا کا روزہ محض ایک عبادتی عمل نہیں، بلکہ یہ اللہ سے تعلق، توبہ کی رغبت، اور گذشتہ گناہوں کی معافی کی امید کا مظہر ہے، اس دن کا روزہ انفرادی اصلاح اور اجتماعی تربیت کا ذریعہ ہے، جو امت کو ہر سال باطن کی صفائی اور ظاہری عمل کی خوبصورتی کی دعوت دیتا ہے۔

حاصل کلام

محرم الحرام اور یومِ عاشورا اسلامی تاریخ کے وہ دن ہیں جو روحانیت، قربانی، صبر اور تقویٰ کا مکمل آئینہ دار ہیں، ان ایام کی قدر و قیمت صرف جذباتی انداز سے منانے میں نہیں، بلکہ انہیں شریعتِ محمدیﷺ کے مطابق گزارنے میں ہے، یہی طرزِ عمل درحقیقت نبی کریمﷺ، صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی سیرت سے وفاداری کا عملی ثبوت ہے۔

محرم الحرام کا پیغام ہے کہ غم و رنج کو صرف آنسوؤں میں نہ بہایا جائے بلکہ اسے عمل، اصلاحِ معاشرہ، صبر، تقویٰ اور اتحادِ اُمت کی صورت میں ڈھالا جائے، اہل بیت ؓ کی سیرت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ راہِ حق میں استقامت ہی اصل کامیابی ہے۔

ایمان دار، سنجیدہ اور حق کے طالب افراد کیلئے ان دنوں کا پیغام نہایت واضح ہے کہ حرمت والے مہینوں کی عظمت کو دل سے تسلیم کریں، یومِ عاشورہ کو روزے، توبہ اور اصلاحِ نفس کیلئے غنیمت جانیں، یہ دن اپنی باطنی تطہیر، گزشتہ کوتاہیوں کی تلافی اور نیکیوں کے نئے سفر کا آغاز بنائیں، ہر قسم کے غلو، بدعات اور فرقہ واریت سے مکمل اجتناب کریں، اسلام وحدت، توازن، اور اتباعِ سنت کا نام ہے، نہ کہ انتہا پسندی، غلو یا تقسیم کا۔