خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) برطانوی اخبار دی گارڈین نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو مختلف ممالک کی جانب سے ملنے والے غیر ملکی اعزازات پر سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے متعدد ایوارڈز مودی کے دوروں سے چند روز قبل ہی تخلیق کیے گئے اور بعض کے وہ پہلے یا واحد وصول کنندہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیشلز کی جانب سے دیا جانے والا "Guardian of the Blue Horizon" ایوارڈ مودی کی آمد سے صرف تین روز قبل متعارف کرایا گیا۔
اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابتدائی سرٹیفکیٹ میں "Republic" اور "Seychelles" کے الفاظ غلط لکھے گئے تھے جب کہ اس کے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار ہونے کے خدشات بھی سامنے آئے۔
تاہم سیشلز کی وزارتِ خارجہ نے وضاحت کی کہ غلط سرٹیفکیٹ محض ورکنگ ڈرافٹ تھا اور بعد میں منظور شدہ اصل سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا اور حکومت نے ایوارڈ کو مکمل طور پر حقیقی قرار دیا۔
دی گارڈین نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا "Medal of the Knesset" بھی مودی کے دورے سے چند روز قبل تخلیق کیا گیا اور وہ اس کے اب تک واحد وصول کنندہ ہیں۔
اسی طرح 2019 کا "Philip Kotler Presidential Award" بھی پہلے مودی کو دیا گیا، حالانکہ اسے ہر سال کسی قومی رہنما کو دیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، مگر بعد میں کسی اور شخصیت کو یہ اعزاز نہیں ملا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران مودی کو ایتھوپیا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت کئی ممالک کے اعلیٰ اعزازات بھی ملے جن میں بعض کے وہ پہلے غیر ملکی یا واحد وصول کنندہ قرار پائے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے ان اعزازات پر طنز کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مودی حکومت بیرونی اعزازات کو داخلی سیاسی تشہیر اور امیج بلڈنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مؤقف ہے کہ یہ اعزازات مودی کی عالمی قیادت، سفارتی کامیابیوں اور ماحولیاتی خدمات کے اعتراف کا ثبوت ہیں۔
دی گارڈین کی رپورٹ میں مزید لکھا گیا کہ مودی کے غیر ملکی اعزازات اب بھارت میں سیاسی بحث کا موضوع بن چکے ہیں، جہاں حامی انہیں بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی علامت قرار دیتے ہیں جب کہ ناقدین انہیں شخصیت پر مبنی سیاست اور سیاسی تشہیر سے جوڑ رہے ہیں۔