بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی قید تنہائی سے متعلق درخواستوں پر اہم پیشرفت

بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی قید تنہائی سے متعلق درخواستوں پر اہم پیشرفت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ سے تفصیلی رپورٹ، جیل ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات طلب کر لی ہیں۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے سماعت کے دوران حکم دیا کہ اگر دونوں قیدیوں کو قید تنہائی میں رکھا گیا تو بتایا جائے کہ انہیں کس قانون کے تحت، کن حالات میں اور کتنے عرصے کے لیے تنہائی میں رکھا گیا اور آیا یہ اقدام بطور سزا کیا گیا یا نہیں۔

عدالت نے ہدایت کی کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جیل میں موجودہ صورتحال، انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات اور قید تنہائی سے متعلق لگائے گئے الزامات کی تفصیلات بھی رپورٹ میں شامل کی جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواستیں قابلِ سماعت ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ رپورٹس موصول ہونے کے بعد کیا جائے گا، کیس کے میرٹ پر بھی رپورٹ اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

عدالت نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر دونوں قیدیوں کا جیل ریکارڈ، رجسٹر ریکارڈ اور دیگر متعلقہ دستاویزات بھی عدالت میں پیش کیے جائیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئی جی جیل خانہ جات کو بھی ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر جیل کی سطح کا ایسا افسر عدالت میں پیش کیا جائے جو کیس کے تمام حقائق اور حالات سے مکمل آگاہ ہو۔

عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 6 اگست تک رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا۔