کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی: سیکرٹری اطلاعات

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیر کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی: سیکرٹری اطلاعات

سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے آزاد کشمیر کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے کا معاشی نقصان پہنچا، ان کے مطابق عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر ہڑتال کی کال ناکام ہوئی تو ان سے بنیادی حقوق اور حکومتی مراعات واپس لے لی جائیں گی، حالانکہ حکومت پہلے ہی سستے آٹے اور سستی بجلی کی مد میں عوام کو بڑی سبسڈی فراہم کر چکی ہے۔

سیکریٹری اطلاعات کے مطابق کالعدم کمیٹی انتخابات میں خلل ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے، جو جمہوری عمل پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمیٹی کی قیادت اپنی تقاریر میں پاکستان اور مسلح افواج کے خلاف عوام کو اکسانے کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکاروں کو بغاوت پر بھی اکساتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے خود کو کبھی رجسٹرڈ نہیں کروایا اور ماضی کے پرتشدد واقعات کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی امجد ایوب مرزا جیسے ملک دشمن عناصر سے معاونت حاصل کر رہی ہے، جبکہ اس کے سرغنوں اور شرپسند عناصر کے خلاف 79 مقدمات درج ہیں۔

سیکریٹری اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو عوام اور تاجروں نے مکمل طور پر مسترد کر دیا، انہوں نے الزام لگایا کہ کمیٹی نے پونچھ اور سدھنوتی میں خوف و ہراس کی فضا قائم کی، نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر ڈالا، ریاست اور پاک فوج مخالف نعرے لگوائے اور اپنی تقاریر میں آزاد کشمیر کی خودمختاری کے نام پر ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ تشکیل دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2023 سے مختلف ادوار میں سرکاری دفاتر پر حملے، سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کرنے، پولیس اہلکاروں پر حملوں، اسلحہ چھیننے، اسلام آباد پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنانے، تشدد کرنے، راستے بند کرنے کے لیے درخت کاٹنے، اشیائے خورونوش سے بھرے ٹرک لوٹنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے جیسے واقعات میں بھی کالعدم کمیٹی کے عناصر ملوث رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے بعض عناصر چندہ جمع کرکے منشیات اور اسلحہ اکٹھا کر رہے ہیں، خواتین، بچوں اور طلبہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر غزہ اور مقبوضہ کشمیر کی پرانی تصاویر شیئر کرکے حکومت مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف مستند ذرائع سے خبروں کی تصدیق کریں۔

مسلح جتھوں نے متعدد مقامات پر راشن سے بھرے ٹرک لوٹے: ڈی آئی جی آزاد کشمیر

اس موقع پر ڈی آئی جی اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے کہا کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے متعدد مقامات پر راشن سے بھرے ٹرک لوٹے، جس کے باعث ٹرانسپورٹر آزاد کشمیر آنے سے گریز کر رہے ہیں، تاہم جلد تمام راستے کلیئر کرا دیے جائیں گے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ راولاکوٹ میں پولیس پر فائرنگ کے نتیجے میں تین اہلکار شہید ہوئے، جبکہ سی ایم ایچ راولاکوٹ میں مریضوں، زخمی اہلکاروں اور طبی عملے کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔

ان کے مطابق 7 جون کو سی ایم ایچ کا گیٹ واگزار کرانے اور یرغمال عملے کی بازیابی کے لیے آپریشن کیا گیا، جس کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلائی گئیں۔

ترجمان پولیس نے مزید کہا کہ ہجیرہ میں سڑکوں کی بندش کے باعث بروقت طبی امداد نہ ملنے سے تین خواتین جاں بحق ہوئیں، جن میں دو زچگی کے کیسز اور ایک دل کی مریضہ شامل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے کارکن نجی گاڑیاں روک کر شہریوں کے شناختی کارڈ چیک کرتے اور سرکاری ملازمین کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 17 احتجاجی کارکنوں کے قبضے سے مہلک ہتھیار اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد کیے گئے، 4 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اندھا دھند فائرنگ کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی فائرنگ ہوئی تو اس کی مستند ویڈیو سامنے لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس روز سنائی دینے والی فائرنگ کی آوازیں ہجوم میں موجود مسلح افراد کی تھیں۔

ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ 5 جولائی کو ڈڈیال میں پولیس پر فائرنگ سے پانچ سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے پاس اب واحد راستہ یہ ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کرے۔