ہم آزادکشمیر میں جیت رہے تو کہا جا رہا دھاندلی ہوگئی: مریم اورنگزیب

ہم آزادکشمیر میں جیت رہے تو کہا جا رہا دھاندلی ہوگئی: مریم اورنگزیب

 نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلزپارٹی کی کامیابی پر وزیراعظم نے انہیں مبارکباد دی تھی، لیکن آج آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پر بلاجواز دھاندلی کا شور مچایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ہزاروں ووٹ کاسٹ ہوتے ہیں، ایسے میں ایک یا دو ووٹوں پر غلط مہر کا حوالہ دے کر پورے انتخابی عمل کو متنازع قرار دینا درست نہیں۔

سینئر وزیر پنجاب کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے پولنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیے، جبکہ ساڑھے دس بجے ہی شکست کا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس بھی کر دی۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گولی اور گالم گلوچ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی, ان کے مطابق ایک مقام پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی، جس دوران ایک بزرگ شخص کو دل کا دورہ پڑا.

اُن کا کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی نے اسے فائرنگ کا واقعہ قرار دے کر سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، جبکہ کارکنوں کی جھڑپ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر موجود ہے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ کشمیری عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابات ہر جماعت کی کارکردگی کا امتحان ہوتے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے پیپلزپارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عوامی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہے تو سندھ میں اپنی کارکردگی بہتر بنائے، کیوں کہ عوام کارکردگی کی بنیاد پر ہی ووٹ دیتے ہیں، انتخابی نتائج واضح کر رہے ہیں کہ عوام کا جوش و جذبہ کس جماعت کے ساتھ ہے۔