پاکستان کی اہمیت میں اضافہ، بھارت کا تنہا کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا: ڈینیئل مارکی

پاکستان کی اہمیت میں اضافہ، بھارت کا تنہا کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا: ڈینیئل مارکی

بھارتی نیوز پلیٹ فارم ’دی وائر‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈینیئل مارکی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو اسلام آباد کے لیے اہم کامیابی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کی قربت بھارت کی ان کوششوں کو کمزور کر رہی ہے جن کے ذریعے اسلام آباد کو مشرقِ وسطیٰ سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی تعاون سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت، مالی پشت پناہی اور علاقائی اثرورسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے، پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی اتحاد بھارت کے سفارتی اثرورسوخ، عسکری آزادی اور خلیجی خطے تک رسائی کو محدود کر رہے ہیں۔

امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ بھارت نے مشرقِ وسطیٰ میں خصوصی تعلقات قائم کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے، تاہم پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث اسلام آباد ایک بار پھر علاقائی طاقت کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اس کے علاقائی شراکت داروں کے درمیان بڑھتا تعاون بھارت کو کسی بھی فوجی کارروائی یا سرحد پر خطرناک اقدام سے قبل کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ ان کے بقول اس پیش رفت نے بھارت کے اس بیانیے کو بھی کمزور کردیا ہے کہ پاکستان علاقائی معاملات میں اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔

ڈینیئل مارکی نے مزید کہا کہ پاکستان کی جوہری، روایتی اور جدید تکنیکی دفاعی صلاحیت بھارت کی یک طرفہ علاقائی بالادستی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ پاکستان مخالف بھارتی سفارتی حکمت عملی بھی بالآخر اسلام آباد کی علاقائی اہمیت بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان طویل عرصے سے جنگ آزمودہ فوج کے ذریعے علاقائی بحرانوں میں اہم کردار ادا کرتا آرہا ہے اور افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران بھی پاکستانی افواج نے اپنی تزویراتی اہمیت ثابت کی۔

واضح رہے کہ ڈینیئل مارکی پاکستان اور جنوبی ایشیا کے امور پر طویل عرصے سے تحقیق اور تجزیہ کرتے رہے ہیں، ان کی حالیہ تحریروں میں بھی پاکستان اور امریکا کے تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست پر توجہ دی گئی ہے۔