خلاصہ
- مظفرآباد: (محمد اسلم میر) آزاد جموں و کشمیر کے 2026 کے عام انتخابات کا انتخابی عمل باغ کے دو حلقوں کے نتائج کے ساتھ مکمل ہوگیا، باغ کے دونوں حلقوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک، ایک نشست حاصل کرلی۔
باغ کے نتائج سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی مجموعی نشستوں کی تعداد 25 جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
باغ کے حلقہ ایل اے 15 وسطی باغ میں پیپلز پارٹی کے نوجوان امیدوار سردار ضیاء القمر نے کامیابی حاصل کی جبکہ ایل اے 16 شرقی باغ سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار میر اکبر خان کامیاب قرار پائے۔
دونوں حلقوں کے 23 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کے بعد نتائج سامنے آئے اور اس کے ساتھ باغ کے دونوں حلقوں کا انتخابی عمل مکمل ہوگیا۔
ایل اے 15 وسطی باغ کے 9 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کے عمل میں پیپلز پارٹی کے سردار ضیاء القمر نے اپنے مدمقابل ن لیگ کے امیدوار مشتاق منہاس کو شکست دے کر نشست اپنے نام کرلی، اس کامیابی سے پیپلز پارٹی نے باغ میں اہم سیاسی پیش رفت کی ہے۔
دوسری جانب ایل اے 16 شرقی باغ میں مسلم لیگ (ن) کے سردار میر اکبر خان نے 20 ہزار 793 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان 16 ہزار 963 ووٹ لے سکے، یوں سردار میر اکبر خان نے 3 ہزار 830 ووٹوں کی برتری سے نشست جیت لی۔
باغ کے دونوں حلقوں کے نتائج کے بعد آزاد کشمیر اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے، پارٹی اب 25 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن چکی ہے جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے۔
ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کا بڑا مرحلہ مکمل ہونے کے باوجود راولاکوٹ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں ضمنی انتخاب ہونا باقی ہے، ان حلقوں میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ایوان میں سیاسی اور پارلیمانی صورتحال کی حتمی تصویر مزید واضح ہوگی۔
2026 کے انتخابات کے مختلف مراحل میں مسلم لیگ (ن) نے مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، پیپلز پارٹی نے بھی کئی اہم حلقوں میں کامیابی حاصل کرکے ایوان میں مضبوط اپوزیشن کی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
باغ کے نتائج کو خاص طور پر اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ خطہ روایتی طور پر آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔
ایل اے 15 میں پیپلز پارٹی کے نوجوان امیدوار سردار ضیاء القمر کی کامیابی اور ایل اے 16 میں مسلم لیگ (ن) کے سردار میر اکبر خان کی فتح نے دونوں بڑی جماعتوں کو ایک، ایک نشست فراہم کی ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق راولاکوٹ اور سدھنوتی کے سات حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات اب نئی حکومت کی پارلیمانی پوزیشن اور اپوزیشن کی قوت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کو 25 نشستوں کے ساتھ حکومت سازی میں واضح برتری حاصل ہے جبکہ پیپلز پارٹی 12 نشستوں کے ساتھ ایوان میں مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔