لاہور ہائیکورٹ نے تین بچوں کی باپ کو حوالگی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

لاہور ہائیکورٹ نے تین بچوں کی باپ کو حوالگی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کی مستقل حوالگی کا فیصلہ گارڈین کورٹ بچوں کی فلاح و بہبود اور خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گی۔

جسٹس غلام سرور نہنگ نے نسیم بی بی کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار ماں نے بچوں کو باپ کے حوالے کرنے کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

تحریری فیصلے کے مطابق 16 سالہ آمنہ بی بی، 11 سالہ ایمان فاطمہ اور 9 سالہ علی حسین کو ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ نے بچوں کے کم سن نہ ہونے کی بنیاد پر باپ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

ماں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 20 جولائی کو بچوں کو زبردستی اس کی تحویل سے لے جایا گیا، جس کے بعد بچوں کی بازیابی کے لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت درخواست دائر کی گئی۔

عدالت نے قرار دیا کہ غیر معمولی حالات میں ہائیکورٹ بچے کی فوری تحویل بحال کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ جسٹس غلام سرور نہنگ نے واضح کیا کہ بچے کسی والدین کی ملکیتی چیز نہیں ہیں اور بچوں کی مستقل تحویل کا فیصلہ محض والدین کے رشتے کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کے مطابق بچوں کی پرورش، تعلیم، رہن سہن اور مجموعی فلاح و بہبود کا تفصیلی جائزہ گارڈین کورٹ لے گی، جبکہ بچوں کی خواہش کو بھی مستقل حوالگی کے فیصلے میں مدنظر رکھا جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے دونوں فریقین کو بچوں کی مستقل حوالگی کے لیے گارڈین کورٹ سے رجوع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے تینوں بچوں کو باپ سے لے کر ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا اور درخواست نمٹا دی۔