خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نئے صوبوں کے بجائے بااختیار انتظامی یونٹس بنانے کا مطالبہ کر دیا۔
مقامی ہوٹل میں گریجویٹ فورم پاکستان کے زیر اہتمام قومی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں مفتاح اسماعیل نے نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں آج کل نئے صوبوں کے حوالے سے بات چل رہی ہے، ہمارے پاس پانچ آپشنز ہیں، پہلا تو یہ ہے کہ موجودہ نظام کو ایسے ہی چلنے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری چیز یہ ہے کہ ہم بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام نافذ کریں، پیپلزپارٹی کے ہوتے ہوئے بااختیار مقامی حکومتیں قطعی نہیں ہوسکتیں، پی ٹی آئی بڑی باتیں کرتی ہے مگر انہوں نے خیبرپختونخوا میں کیوں بااختیار بلدیاتی نظام نافذ نہیں کیا، مسلم لیگ ن والوں کی صورتحال بھی آپ کے سامنے ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے قرارداد تو پاس کر لی مگر کرنا کچھ نہیں، مقامی حکومتوں کا آپشن بہت اچھا ہے مگر موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ اب ہم آتے ہیں تیسرے آپشن کی طرف جوکہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس ہیں، ایڈمنسٹریٹو یونٹ کا نظام یہ ہے کہ آپ صوبوں سے لوکل گورنمنٹ کا نظام لے لیں، صوبے لوکل گورنمنٹس کا نظام نافذ کرنے میں ناکام ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فی الحال اجارہ داریاں قائم ہیں، صرف 800 لوگ پورے ملک کا نظام دیکھ رہے ہیں، آپ ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنائیں، کراچی والے کراچی کو چلائیں، لاڑکانہ والے لاڑکانہ کو چلائیں، اسی طرح لاہور والے لاہور اور پشاور و کوئٹہ کے مقامی لوگ وہاں کا انتظام چلائیں۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کراچی والوں کو ان کا جائز حق دینے کو تیار نہیں، نہ یہ کراچی والوں کو پانی دے رہے ہیں، نہ روزگار دے رہے ہیں، نہ انفراسٹرکچر دے رہے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس پر وہ کہہ رہے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹ پر بات بھی نہ کریں، یہ کیسے ہوسکتا ہے۔