خلاصہ
- کراچی :(دنیا نیوز) چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی ریلی ایک ریفرنڈم تھا،عوام نے تمام رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر تاریخ رقم کردی۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ 22 اگست کے بعد ایم کیو ایم کے لیے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، تاہم کراچی کے عوام نے تمام رکاوٹوں کے باوجود کامیاب ریلی نکالی۔
انہوں نے کہا کہ ریلی نے بہت ساری سازشوں کو خاک میں ملا دیا ہے اور ایم کیو ایم کے کارکنان کو کامیاب ریلی پر مبارکباد دیتا ہوں۔
چیئرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام نے کل سڑکوں پر آکر خود کو منوا دیا اور یہ بھی بتا دیا کہ کراچی بانیانِ پاکستان کی اولادوں کا مسکن ہے، پاکستان کی تاریخ میں اتنی بڑی ریلی اور مارچ نہیں ہوا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسی لیے زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں، کراچی سندھ کی آبادی کا تقریباً 57 فیصد ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جاگیردارانہ نظام کے ہوتے ہوئے پاکستان کا مستقبل نہیں ہوسکتا، خاندانی حکومتوں کے اختتام کا وقت آچکا ہے۔
چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کروں گا کہ اس نے ہماری نیتوں اور صبر کا پھل دیا ہے، ریلی کے بعد بھی سازشوں کے نئے منصوبے بنائے جائیں گے، تاہم صبر کبھی بھی جبر کے ہاتھوں شکست نہیں کھاتا۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ مصنوعی اکثریت کے ذریعے سندھ کے شہری علاقوں کو غلام بنانے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، ایم کیو ایم نے مردم شماری میں 70 لاکھ سے زائد افراد کو شامل کرایا۔
انہوں نے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک یوسی میں جاکر نمازِ شکرانہ ادا کی جائے گی، اب نئے نئے منصوبے بھی بنیں گے اور سازشیں بھی ہوں گی، تاہم جدوجہد جاری رہے گی۔
چیئرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ اٹھارہ سال سے سندھ جس طرح چلایا گیا، عدالت اس کا نوٹس لے جب کہ سندھ کے اٹھارہ سالہ طرزِ حکمرانی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ’’آپ کو پتا نہیں کس قوم کو للکار رہے ہیں‘‘، ایم کیو ایم نے انتظامی یونٹس کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔