خلاصہ
- مظفرآباد: (محمد اسلم میر) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو 32 ووٹ دے کر آزاد کشمیر کا 23 واں صدر منتخب کر لیا، ان کے مدمقابل پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار چودھری لطیف اکبر نے 13 ووٹ حاصل کیے۔
صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکرٹریٹ میں ہوئی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی کامیابی کا اعلان کیا گیا، 46 رکنی ایوان میں اسپیکر چودھری طارق فاروق نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی چودھری قاسم مجید کی عدم موجودگی کے باعث ان کا ووٹ شمار نہ ہوسکا۔
ڈاکٹر نجیب نقی کا انتخاب نئی منتخب حکومت کے قیام کے بعد اہم آئینی عہدوں کی تشکیل کے سلسلے کی تکمیل بھی ہے، اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار گیلانی وزیراعظم آزاد کشمیر منتخب ہوئے تھے جبکہ چودھری طارق فاروق نے اسپیکر قانون ساز اسمبلی کا منصب سنبھالا تھا۔
صدارتی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان اور چودھری لطیف اکبر کے کاغذات نامزدگی منظور کیے تھے، پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی ریٹرننگ افسر کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی کامیابی کے ساتھ آزاد کشمیر میں صدر کے عہدے پر نئی مدت کا آغاز ہوگیا ہے، دنیا نیوز نے 28 اگست کو ڈاکٹر نجیب نقی کے صدر بننے کی خبر بریک کی تھی جو آج 24 روز کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی کے صدر منتخب ہونے کے بعد درست ثابت ہوئی۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کے صدر منتخب ہونے کی صورت میں پونچھ ڈویژن کو ریاستی حکومت کے اہم آئینی عہدوں میں نمائندگی ملے گی، صدارتی انتخاب کے بعد راولاکوٹ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر ہونے والے آئندہ انتخابات بھی آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت ہو گی اور صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد الیکشن میں ن لوگ کی پوزیشن مزید بہتر ہو جائے گی۔
ڈاکٹر نجیب نقی کا سیاسی سفر
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کا سیاسی سفر آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے علاقے سدھنوتی سے شروع ہوا اور تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سیاسی و حکومتی سفر کے بعد وہ آزاد کشمیر کے صدارتی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں۔
62 سالہ ڈاکٹر نجیب نقی کا تعلق ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے، ان کے دادا کرنل خان محمد خان کو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ’’بابائے پونچھ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، جبکہ ان کے والد کرنل محمد نقی خان بھی سیاست میں سرگرم رہے۔
والد کے انتقال کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی نے 1990 کی دہائی میں عملی سیاست کا آغاز کیا، 1991 کے انتخابات میں وہ پہلی مرتبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس دوران انہوں نے صحت، منصوبہ بندی و ترقی کے شعبوں میں پارلیمانی سیکریٹری کی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔
1996 کے انتخابات میں مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر دوبارہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ 2001 سے 2006 تک آزاد جموں و کشمیر کونسل کے رکن رہے۔
2006 کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور حکومت میں صحت، بہبودِ آبادی، کالجز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
2011 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے، 2016 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی اور 2021 تک صحت، خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیات سمیت اہم محکموں کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
2021 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے تنظیمی اور سیاسی معاملات میں بھی ڈاکٹر نجیب نقی کا شمار اہم رہنماؤں میں ہوتا رہا، رواں ماہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت نے انہیں آزاد کشمیر کے صدر کے منصب کے لیے پارٹی کا امیدوار نامزد کیا۔
ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کا سیاسی سفر رکن اسمبلی، پارلیمانی سیکرٹری، کشمیر کونسل کے رکن اور مختلف اہم محکموں کے وزیر کی ذمہ داریوں سے گزرتا ہوا، اب آزاد کشمیر کے آئینی منصبِ صدارت تک پہنچا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ڈاکٹر نجیب کو مبارکباد
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ڈاکٹر نجیب نقی کو صدر آزاد جموں و کشمیر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔
وزیراعظم نے ڈاکٹر نجیب نقی کے بطور صدر آزاد جموں و کشمیر انتخاب پر نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ڈاکٹر نجیب نقی کا انتخاب آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر نجیب نقی اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دیتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وفاقی حکومت کے بھرپور تعاون کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔