حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم

حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن، حرمت پر آنچ نہیں آنے دیں گے: وزیراعظم

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ 24 کروڑ پاکستانی عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں اور جنرل اسمبلی سے چوتھی مرتبہ خطاب ان کے لیے اعزاز ہے۔

وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا، پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امن، سفارتکاری، کشمیر، فلسطین، دہشت گردی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال سمیت اہم عالمی معاملات پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم کاوشوں میں سے ایک ہے اور موجودہ عالمی حالات میں سفارت کاری کا مطالبہ مزید بلند ہونا چاہیے،  پاکستان نے ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے میں سفارتی کردار ادا کیا اور اسلام آباد میں دونوں فریقوں کو ایک چھت تلے بٹھایا۔

وزیراعظم نے سفارت کاری کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی معیشت متاثر ہوئی ہے، اس لیے آبنائے ہرمز اور باب المندب کھلے رہنے چاہئیں اور انہیں تنازع کا چوک پوائنٹ نہیں بننا چاہیے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات و سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات میں بھی کہا کہ تنازعات کے حل اور امن کی بحالی کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری کو راستہ بننا چاہیے۔

کشمیر کے حوالے سےاُنہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور خطے کی خصوصی حیثیت بدلنے کی کوشش کی ہے۔

وزیراعظم لا سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے، مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے نے پوری امت کو غم و غصے میں مبتلا کردیا، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہونا چاہیے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے پر اپنی حمایت کا اعادہ کر چکا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے جب کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے، پاکستان اور دیگر ممالک نے بھی سعودی عرب کے دفاع اور محفوظ بحری راستوں کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

اپنے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ  نے دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کو بیرونی فنڈنگ والے دہشت گرد گروپ قرار دیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے رکھا، اسلاموفوبیا اور خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف مؤثر عالمی اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کو خاموش کراتے ہوئے ایسا سبق سکھایا جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

شہباز شریف نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی پرعزم اور بصیرت افروز قیادت پر ان کا مشکور ہے۔