گورنر کے پی کا دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں پر زور، صوبائی حکومت پر تنقید

گورنر کے پی کا دہشتگردی کیخلاف مشترکہ کوششوں پر زور، صوبائی حکومت پر تنقید

فیصل کریم کنڈی نے کہا دہشت گردی کی جنگ میں ہم سب ایک پیج پر ہیں، سکیورٹی فورسز کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

گورنر کے پی نے کہا خیبرپختونخوا میں حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر نظر نہیں آرہی، سکیورٹی فورسز کے خلاف پی ٹی آئی اسمبلی میں قراردادیں منظور کرواتی ہے۔

انہوں نے کہا کے پی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کی بات کرتی ہے، کے پی حکومت کی گورننس پر کوئی دھیان نہیں لیکن لانگ مارچوں پر فوکس ہے، امن کے لیے صوبائی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا 27 مارچ کی پی ٹی آئی کی کوئی تیاری نہیں تھی، یہ اگر صوابی تک آجائیں تو ہم ان کو مانیں گے۔ کوئی بھی ریاست کے خلاف ہوگا تو اسے نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا اگر مارچ سے بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آسکتا تو پہلے بھی تین بار لانگ مارچ ہوئے ہیں، کے پی حکومت نے مارچوں میں سرکاری وسائل استعمال کیے ہیں۔

گورنر کے پی نے کہا ہمارے صوبے میں دہشت گردی ہے، اس کو ہم سب نے مل کر ختم کرنا ہے، ہم نے ہمیشہ مل بیٹھ کر بات چیت کرنے کی بات کی ہے، اگر وزیراعلیٰ کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلا لیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا بانی پی ٹی آئی کہتے تھے پولیس کو غیر سیاسی بنائیں گے لیکن آج ان کے اختیارات غصب کیے جارہے ہیں، صوبے میں سب سے کم تنخواہ پولیس والوں کی ہے لیکن قربانیاں سب سے زیادہ کے پی پولیس کی ہیں۔

انہوں نے کہا اگر آج بھی نیب فرانس سے اکاؤنٹ نکالے تو سابق وزیراعلیٰ کے بھائی کے اکاؤنٹ میں اربوں ڈالر ملیں گے، پی ٹی آئی آپس میں تقسیم ہے۔

گورنر کے پی نے کہا اگر صوبائی وزیر اور ایم پی اے گرفتار ہورہے ہیں تو صوبے کے ایگزیکٹو کو استعفیٰ دے دینا چاہئے، انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے ابھی تک سکیورٹی صورتحال پر صدر مملکت کو کوئی خط نہیں لکھا۔