9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج

9مئی مقدمہ: نامزد ملزم کا نام پی سی ایل سے نکالنے کی درخواست خارج

جسٹس منور اقبال ڈوگر نے درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت چالان شدہ ملزم کا پاسپورٹ قانون کے تحت ضبط شدہ تصور ہوتا ہے، پاسپورٹ کی ضبطی ختم کرنے اور ملزم کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کا اختیار متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت کے پاس ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ محض ضمانت منظور ہونے سے ملزم کو پاسپورٹ استعمال کرنے یا بیرونِ ملک سفر کرنے کی خودکار اجازت نہیں مل جاتی، بیرونِ ملک سفر کی اجازت کے لیے ملزم کو متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔

فیصلے کے مطابق پاسپورٹ کنٹرول یا سٹاپ لسٹ سے کسی شخص کا نام نکالنے سے قانونی طور پر ضبط شدہ پاسپورٹ کی حیثیت خود بخود ختم نہیں ہوتی، انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پاسپورٹ ضبط کرنے اور اس کی مدت کا تعین کرنے کا اختیار متعلقہ عدالت کے پاس ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ اپنے آئینی دائرہ اختیار میں براہ راست ٹرائل کورٹ کے اختیار کو استعمال نہیں کرسکتی، کسی انتظامی حکم یا سٹینڈنگ آرڈر کے ذریعے پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کو غیر مؤثر نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت نے ڈویژن بینچ کے مقدمہ ’’فیڈریشن بنام شیخ رشید احمد‘‘ کے فیصلے کی نظیر کو بھی برقرار رکھا جبکہ ایف آئی اے اور امیگریشن حکام کی جانب سے 6 اور 19 مئی کو کیے گئے اقدامات کو قانون کے مطابق قرار دیا۔

درخواست گزار کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں 9 مئی کے واقعات کا مقدمہ نمبر 96/23 درج ہے۔

سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان پیش ہوئے، انہوں نے درخواست گزار کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاسپورٹ کی ضبطی ختم کرنے اور بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کا اختیار متعلقہ انسداد دہشت گردی عدالت کے پاس ہے۔

فریقین کے دلائل اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے درخواست خارج کردی۔