میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کو سینئر پولیس افسروں کے تحریری جوابات موصول

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کو سینئر پولیس افسروں کے تحریری جوابات موصول

کمیشن کے روبرو صحافیوں نے جائے وقوعہ کے اطراف مشکوک گاڑیوں سے متعلق بریفنگ دی، کمیشن نے 7 اکتوبر کو کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری کو طلب کر رکھا ہے۔

جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں میر رضا کیس کے انکوائری کمیشن اجلاس میں گلستان جوہر کے رہائشی گواہ ریاض کا بیان ریکارڈ کیا گیا، ریاض نے جائے وقوعہ کے اطراف مشکوک گاڑی کی نشاندہی کی۔

وکیل جبران ناصر نے بتایا کہ میر رضا کے قتل کے دو ہفتوں بعد ایسی ہی گاڑی میر رضا کے گھر کے باہر دیکھی گئی، جوڈیشل کمیشن کے روبرو صحافی بابر سلیم اور صولت جعفری نے مشکوک گاڑیوں سے متعلق بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میر رضا کی ریکی کی جارہی تھی، بظاہر میر رضا کی گاڑی کا گلستان جوہر سے پیچھا کیا جارہا تھا، گلستان جوہر سے میر رضا کے پیچھے نظر آنے والی گاڑی گیسٹ ہاؤس کے باہر رکی، اسی طرح ایک موٹر سائیکل بھی جائے وقوعہ کا جائزہ لیتی اور اطراف میں گھومتی دکھائی دی۔

صحافیوں کے مطابق میر رضا نے 2021ء میں کرپٹو ٹریڈنگ آئی ڈی بنائی اور مجموعی طور پر ایک سال میں 8 کروڑ روپے کی ٹریڈنگ سامنے آئی، میر رضا کی کرپٹو میں خریداری زیادہ اور فروخت کم تھی، ایک برس کی ٹریڈنگ کے بعد بھی وہ نقصان میں نہیں تھا تاہم ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 3 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے نقصانات کو بنیاد بنا کر خودکشی کے بیانیے کو فروغ دیا گیا، میر رضا نے آخری تین ماہ میں 90 لاکھ روپے کرپٹو میں ڈالے، کرپٹو پلیٹ فارم کے نمائندے کے مطابق آخری تین ماہ میں میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ میں تیزی آئی، ممکن ہے یہ تیزی کسی کے دباؤ کا نتیجہ ہو۔

کمیشن کے معاون تجمل لودھی ایڈووکیٹ نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کے سیل شدہ جوابات کمیشن میں جمع کروا دیئے۔

کمیشن نے 7 اکتوبر کو کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل سی نمائندہ کاشف کو طلب کر رکھا ہے۔