ایم کیو ایم کی وزیراعظم سے ملاقات، خیبرپختونخوا سے متعلق حکومتی فیصلوں کی حمایت کا اعلان

ایم کیو ایم کی وزیراعظم سے ملاقات، خیبرپختونخوا سے متعلق حکومتی فیصلوں کی حمایت کا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے وفد کو خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں یہ مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا، ہم نے بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح ہمیں یہ انتہائی قدم نہ اٹھانا پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کھلے دل سے مذاکرات کیے لیکن دوسری جانب سے مثبت جواب نہیں ملا، خیبرپختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا جبکہ صوبائی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے میں ناکام رہی۔

شہباز شریف نے کہا کہ لانگ مارچ ملک کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش تھی۔

ملاقات کے دوران ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا کے حوالے سے حکومتی فیصلوں پر اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

وفد میں وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، سینیٹر عامر ولی الدین چشتی، سینیٹر خالدہ اتیب، اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد فاروق ستار، عبدالعلیم خان، سید وسیم حسین، آسیہ اسحاق صدیقی، محمد جاوید حنیف خان، محمد معین عامر پیرزادہ شامل تھے۔

محمد اقبال خان، حسان صابر، صادق افتخار، ارشد عبداللہ وہرا، سید حفیظ الدین، سید امین الحق، خواجہ اظہار الحسن، احمد سلیم صدیقی، فرحان چشتی، نکہت شکیل خان، سبہین غوری، رانا انصر، صوفیہ سعید شاہ اور سنجے پروانی بھی ملاقات کرنے والے وفد کا حصہ تھے۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔