خلاصہ
- لاہور: (دنیا نیوز) چیئرمین یو سی پی میاں عامر نے یونیورسٹی کرکٹ کو قومی ڈومیسٹک کرکٹ کا مستقل حصہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کی جانب سے پی سی بی اور ایچ ای سی کو ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں مشترکہ شراکت داری کی پیشکش کردی۔
یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب لاہور میں سالانہ سپورٹس پرائز ڈسٹری بیوشن تقریب ہوئی جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے شرکت کی۔
یو سی پی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے گریڈ میں کامیابی حاصل کرلی، ٹیم اب گریڈ ٹو گولڈ لیگ میں حصہ لے گی، گریڈ ٹو گولڈ لیگ میں کامیابی کی صورت میں یو سی پی کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ تک رسائی کی راہ ہموار ہوگی،
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ پاکستان میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، نوجوان کھلاڑیوں کو میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا خوش آئند ہے، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی اور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز اختر کے مشترکہ اقدام سے یونیورسٹیوں کے سیکڑوں باصلاحیت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور فرسٹ کلاس کرکٹ تک رسائی کا موقع ملے گا۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لیے یقیناً بڑی خوشی کا دن ہے کہ پہلی مرتبہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز اختر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی سربراہی میں ایک ایسا اقدام متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت یونیورسٹیوں کے طلبہ کو اپنے ٹیلنٹ اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت اگر طلبہ اپنی گولڈ کیٹیگری کو دو سال تک برقرار رکھتے ہیں تو انہیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا، میں اس اقدام پر چیئرمین پی سی بی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز اختر کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا یہ اہم موقع فراہم کیا۔
.jpg)
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ اس مقابلے میں مختلف یونیورسٹیوں نے حصہ لیا اور سہیل افضل، ستار اور ہمارے ریکٹر ڈاکٹر حماد کی سربراہی میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب (یو سی پی) نے گولڈ میڈل حاصل کیا، یو سی پی اور پنجاب گروپ آف کالجز کی تاریخ گزشتہ 30 سال سے کھیلوں کے ساتھ وابستگی اور عزم کی تاریخ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے پنجاب گروپ آف کالجز اور اس کے بعد یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب نے کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پوری ذمہ داری سے نبھایا ہے، ہماری کوشش صرف یہ نہیں کہ ہمارے کھلاڑی کھیلوں میں حصہ لیں بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی کیریئر میں بہترین انداز میں آگے بڑھیں۔
چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت یو سی پی نے کھیلوں میں حصہ لینے والے طلبہ کے لیے ایچ ای سی کی رہنمائی میں خصوصی ڈگری پروگرامز متعارف کرائے ہیں تاکہ وہ کھیلوں میں چیمپئن بننے اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کے بعد بھی اپنی کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں اور ساتھ ہی اپنی تعلیم میں بھی کامیابیاں حاصل کریں، اس حوالے سے یو سی پی کی انتظامیہ بھی خراج تحسین کی مستحق ہے۔
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ گزشتہ 30 سال سے پنجاب گروپ آف کالجز اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈز میں مجموعی چیمپئن شپ ٹرافی حاصل کرتا آ رہا ہے جبکہ گزشتہ 15 سال سے یو سی پی انٹر یونیورسٹی چیمپئن بن رہا ہے، تقریباً 280 یونیورسٹیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے یو سی پی نے مسلسل 15 سال تک یہ اعزاز حاصل کیا ہے، پاکستان میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ چاہے کھیلوں کا میدان ہو یا زندگی کا کوئی اور شعبہ، کامیابی حاصل کرنے کے لیے تسلسل انتہائی ضروری ہے، مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ جب محسن نقوی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان سے پہلے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کیے جانے کے باعث ٹیلنٹ کو آگے بڑھانے کا ایک اہم سلسلہ منقطع ہو گیا تھا، گزشتہ حکومت کے دور میں کھلاڑیوں اور کوچز کو پیش آنے والی مشکلات سے وہ بخوبی آگاہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کوئی کمی نہیں، سکول کرکٹ سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا: محسن نقوی
میاں عامر محمود نے کہا کہ محسن نقوی نے ان مشکلات کے باوجود اپنے عزم کو کمزور نہیں پڑنے دیا بلکہ بکھرے ہوئے ٹیلنٹ کو دوبارہ یکجا کرنے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی، اب ہمیں وہ ٹیلنٹ نمایاں ہوتا نظر آ رہا ہے اور محسن نقوی کے عزم اور کوششوں کی بدولت پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے بھی میچز جیتنا شروع کر دیے ہیں، ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اسی طرح کامیابیوں کی جانب آگے بڑھتی رہے۔
انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے سینئرز کی کامیابیوں سے ترغیب حاصل کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا کا تعلق بھی پنجاب گروپ آف کالجز سے ہے، ان کے علاوہ عبدالصمد، طیب طاہر، حسین طلعت، خرم شہزاد، حسن علی، فہیم اشرف اور وہاب ریاض سمیت متعدد کھلاڑی بھی پنجاب گروپ آف کالجز سے وابستہ رہے ہیں۔
چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم شدید مشکلات کا شکار تھی، پاکستان کرکٹ بورڈ نے محسن نقوی کی قیادت میں ہاکی ٹیم کی بھی مدد کی جس کے بعد ہماری ہاکی ٹیم کی کارکردگی میں بھی بہتری آنا شروع ہوئی، یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے 11 کھلاڑیوں میں سے 9 کا تعلق پنجاب گروپ آف کالجز سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریسلنگ کے عالمی چیمپئن انعام بٹ کا تعلق بھی پنجاب گروپ آف کالجز سے ہے، کامن ویلتھ گیمز میں پنجاب گروپ آف کالجز کے طلبہ نے ایک گولڈ میڈل، دو سلور میڈلز اور ایک برانز میڈل بھی حاصل کیا جبکہ پنجاب گروپ آف کالجز کے طلبہ نے 22 مختلف بین الاقوامی کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی، خواتین کے کھیلوں میں بھی گزشتہ 30 سال سے پنجاب گروپ آف کالجز کی ایتھلیٹس مسلسل اپنے تعلیمی بورڈز کی ٹرافیاں جیت رہی ہیں۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب گروپ آف کالجز اور یو سی پی کے سپورٹس ماڈل میں سب سے اہم چیز تسلسل ہے، چاہے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہو، سکالرشپس کا سلسلہ ہو یا ان کی تعلیم میں آگے بڑھنے کے مواقع، ان تمام چیزوں کا تسلسل برقرار رہنا ضروری ہے، جب ان سرگرمیوں اور سہولتوں کو منقطع کر دیا جاتا ہے تو ٹیلنٹ بکھر جاتا ہے اور پھر اسے دوبارہ یکجا کرنا آسان نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو بھی اپنے کھلاڑیوں اور ٹیلنٹ کو دوبارہ یکجا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تقریباً چار سال کے وقفے کے دوران جب کرکٹرز کو ڈیپارٹمنٹل نظام سے الگ کر دیا گیا تو ٹیلنٹ کو آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہو گئے، اب طویل محنت کے بعد اس ٹیلنٹ کو دوبارہ یکجا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے کھیلوں میں جو کامیابیاں نظر آ رہی ہیں، ان کے پیچھے پنجاب گروپ آف کالجز کی جانب سے فراہم کی جانے والی کوچنگ کی سہولتیں، کھلاڑیوں کی ضروریات کے مطابق غذائیت، ان کے سفر کے انتظامات اور ان کے مستقبل پر طویل مدتی سرمایہ کاری شامل ہے، انہی مسلسل کوششوں کی بدولت ہمارے کھلاڑی اس مقام تک پہنچے ہیں۔
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ یہ کامیابیاں صرف لاہور یا کسی ایک بڑے شہر تک محدود نہیں ہیں بلکہ پنجاب کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں کھیلوں کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے مواقع فراہم کرکے آگے لایا جاتا ہے، مثال کے طور پر کبڈی میں پنجاب کے مختلف دیہی علاقوں سے کھلاڑی ہمارے پاس آتے ہیں اور ایچ ای سی کی ٹرافی جیتتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو مسلسل سہولتیں، تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے اداروں بلکہ پاکستان کے لیے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں، یہی وہ ٹیلنٹ ہے جو پنجاب گروپ آف کالجز میں جمع ہوتا ہے اور آگے بڑھ کر میڈلز حاصل کرنے کے لیے مقابلوں میں حصہ لیتا ہے، یہ سفر بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات تک پھیلا ہوا ہے۔
چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز نے امید ظاہر کی کہ ستار صاحب جس طرح اس ٹیلنٹ کو یکجا کر رہے ہیں، اسی طرح پورے پنجاب سے باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لاتے رہیں گے اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں گے۔
میاں عامر محمود نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے اس ایک فیصلے نے یونیورسٹی سطح پر کھیلوں کے فروغ کے لیے ایک نئی راہ کھولی ہے، اس سے پہلے ایچ ای سی کی ایک ٹیم تقریباً 280 یونیورسٹیوں کی نمائندگی کرتی تھی، ظاہر ہے کہ جب اتنی بڑی تعداد میں یونیورسٹیوں کے ٹیلنٹ کو صرف 11 کھلاڑیوں کی صورت میں نمائندگی کا موقع ملے تو ہر کھلاڑی کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا یکساں موقع نہیں مل پاتا۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز اختر اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے اس اقدام کے بعد اب ہر یونیورسٹی اپنی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بھیج سکتی ہے اور مقابلوں میں حصہ لے سکتی ہے، اس اقدام سے ہمیں سیکڑوں نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیلنٹ پول میسر آئے گا، امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس میں سے باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب کرے گا جو آگے چل کر پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے، یو سی پی نے اس ٹیلنٹ کو نکھارنے اور کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کیا ہے تاہم بدقسمتی سے سرکاری شعبے کی بہت سی یونیورسٹیاں بجٹ کی کمی کے باعث ایسے ٹورنامنٹس میں حصہ نہیں لے پاتیں۔
انہوں نے چیئرمین ایچ ای سی سے درخواست کی کہ ایسی یونیورسٹیوں کی بھی مدد کی جائے، انہیں ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں اور آگے بڑھنے کے مواقع دیے جائیں، پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی صرف فنڈز کی کمی کے باعث اپنے خوابوں کی تکمیل سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو آگے بڑھنے، مقابلہ کرنے اور جیتنے کا یکساں موقع ملنا چاہیے، ہر نوجوان کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے لیے خوشیاں لائے اور گولڈ، سلور اور برانز میڈلز حاصل کرکے ملک کا نام روشن کرے۔
انہوں نے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز اختر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے درخواست کی کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں وہ کسی رکاوٹ یا غیر ضروری پابندی کے بغیر اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھ سکیں۔
میاں عامر محمود نے تقریب کے اختتام پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز اختر کی آمد اور نئی سکیم کے آغاز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے یونیورسٹیوں کے طلبہ کو آگے بڑھنے اور پاکستان کی قومی ٹیم میں کھیلنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے یو سی پی کی ٹیم آئندہ سال بھی اپنی چیمپئن شپ برقرار رکھے گی، ان شاء اللہ اگر ہماری ٹیم اگلے سال بھی چیمپئن بنتی ہے تو اسے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا موقع ملے گا۔