کراچی: بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی کے ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات

کراچی: بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی کے ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات

این سی سی آئی اے نے دو روز قبل گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے 42 افراد کو حراست میں لیا جن میں سے 13 افراد کو باقاعدہ گرفتارکیا گیا۔

این سی سی آئی اے کے مطابق تینوں کمپنیوں کے پیچھے ایک ہی شخص ملوث ہے، تین مرحلوں میں یہ کمپنیاں کام کرتی تھیں، سوشل میڈيا پر بچیوں اور لڑکیوں کے اکاؤنٹس بناکر امریکا اور جرمنی سے کلائنٹس ڈھونڈے جاتے تھے۔

گرفتار ملزمان خواتین کے نام سے جعلی سوشل میڈیا آئی ڈیز بنا کر بچوں کی اینیمیٹڈ پورن کلپس اپ لوڈ کرتے تھے۔ جس کے بعد بعض افراد ان سے یہ کلپس خریدتے تھے، جب کہ کچھ افراد اپنی فرمائش پر اینیمیڈ کلپس تیار کرواتے تھے۔ملزمان کلپس فراہم کرنےکے بعد متعلقہ خریداروں کو شواہد کی بنیاد پر بلیک میل بھی کرتے تھے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کے مطابق انڈر ایج بچوں کو پورنوگرافک کارٹونز اور پروڈکشن کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، نیچرل پرسن کے اواتار پورنوگرافک میٹریل تیار کیے جاتے تھے،کلائنٹس کو اپنی لائبریری کے تیار مٹیریل بھی سیل آؤٹ کیے جاتے تھے اور کسٹمائزڈکنٹینٹ پر بھی کام ہوتا تھا جہاں بچے آرڈر کے مطابق کام کیا کرتے تھے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے طارق نواز نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزمان سے سپر امپوزڈکلپس کے شواہد بھی ملے ہیں، جن کے حوالے سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔اندیشہ ہے کہ ملزمان انسانی چہروں کی بھی جعلی تصاویر بنا کر خریداروں کو فراہم کیا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے یہ بھی دیکھا جارہا ہےکہ خریدار ملزمان میں ملکی اور غیر ملکی کتنے ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کے دیگر کرداروں اور اس کے پھیلاؤ کا تعین کیا جاسکے اور کارروائی کی جاسکے۔

گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔