سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 نافذ: بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ

سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 نافذ: بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ

 سندھ اسمبلی سے منظور شدہ ترمیمی بل کو گورنر سندھ کی منظوری کے بعد باقاعدہ ایکٹ کا درجہ دے دیا گیا ہے، جس کے بعد سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں کی گئی اہم ترامیم نافذ العمل ہوگئی ہیں۔

نئے ایکٹ کی کاپی میئر کراچی، ڈپٹی میئر اور دیگر بلدیاتی نمائندوں کو ارسال کردی گئی ہے، ترامیم کے تحت بلدیاتی کونسلوں کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا ہے، نئے میئر یا چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے تک سبکدوش ہونے والے میئر یا چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر کام جاری رکھ سکیں گے۔

ترمیمی ایکٹ کے تحت ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین کو کونسل اجلاسوں کی صدارت اور کارروائی چلانے کے اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں تین ارکان پر مشتمل پینل سے نامزد رکن یہ ذمہ داریاں انجام دے سکے گا۔

نئی ترامیم میں یونین کونسل، ٹاؤن کمیٹی اور میونسپل کمیٹی میں 90 روز کے اندر تین رکنی مصالحتی فورم قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، فورم کا ایک رکن کنوینر ہوگا اور یہ شہریوں کے درمیان تنازعات باہمی رضامندی سے حل کرانے میں معاونت کرے گا۔

ایکٹ کے مطابق بلدیاتی کونسلوں کی کارکردگی کا سال میں کم از کم ایک مرتبہ معائنہ کیا جائے گا، جبکہ کونسلوں کے اجلاس ہر تین ماہ بعد منعقد کرنا لازمی ہوگا۔

بلدیاتی نمائندوں اور ملازمین کی پیشہ ورانہ تربیت کے لیے سالانہ بجٹ میں فنڈز مختص کرنے اور سروس ڈیلیوری بہتر بنانے کے لیے تربیتی پروگرام ترتیب دینے کی بھی شق شامل کی گئی ہے۔

ترمیمی ایکٹ میں امن و امان اور عوامی تحفظ کے معاملات پر پولیس اور بلدیاتی نمائندوں کے درمیان رابطہ کاری کو بھی قانونی تحفظ دیا گیا ہے، تاہم فوجداری مقدمات کی تفتیش اور پراسیکیوشن کے اختیارات بدستور پولیس کے پاس رہیں گے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بلدیاتی کونسلوں کو جامع سہ ماہی رپورٹس جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے، جبکہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔

ترمیمی ایکٹ کے تحت ٹھوس کچرے کی صفائی اور تلفی کے لیے یونین کونسلوں کو متعلقہ اداروں سے رابطے اور نگرانی کا پابند بنایا گیا ہے۔

اسی طرح غیر قانونی تعمیرات اور بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرکے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو آگاہ کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئی ترامیم کا مقصد بلدیاتی اداروں کی کارکردگی، فیصلہ سازی، عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، جبکہ بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اور ذمہ داریوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔