خلاصہ
- سوات: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ایک افسوسناک اور لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ مل کر 3 سالہ معصوم بچی کو قتل کر دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی لاش بعد میں امانکوٹ کی پہاڑی کے قریب ایک گھڑے میں دفن کی گئی تھی، واقعے میں جاں بحق ہونے والی بچی کی شناخت تمنا کے نام سے ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن سوات نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم انعام اللہ نے خاتون عذرا کو اس کے پہلے شوہر ناصر سے طلاق دلا کر شادی کی اور بعد ازاں اسے مبینہ طور پر جرائم میں بھی ملوث کیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے بچی کو مینگورہ کے ایک ہوٹل کے کمرے میں قتل کرنے کے بعد لاش امانکوٹ کی پہاڑی میں دفن کر دی، واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب پولیس نے خوازہ خیلہ میں موٹر سائیکل چوری کے مقدمے کے سلسلے میں سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا۔
تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ گرفتار افراد نے نہ صرف چوری شدہ موٹر سائیکلیں اپنے قبضے میں رکھی ہوئی تھیں بلکہ دورانِ تفتیش اپنی ہی بیٹی کے قتل کا اعتراف بھی سامنے آیا۔
پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر بچی کی لاش برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دی ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
یہ واقعہ علاقے میں شدید صدمے اور غم و غصے کا باعث بنا ہے۔