پنجاب سے 33 ہزار غیر قانونی مقیم غیرملکی افراد ڈی پورٹ ہو چکے

پنجاب سے 33 ہزار غیر قانونی مقیم غیرملکی افراد ڈی پورٹ ہو چکے

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ڈی پورٹ کئے جانے والوں میں 12 ہزار 565 مرد، 6 ہزار 695 خواتین اور 13 ہزار 760 بچے شامل ہیں۔

ڈی پورٹ ہونے والے 10 ہزار 505 افراد ایسے تھے جن کے پاس کسی نہ کسی نوعیت کا رہائشی ثبوت موجود تھا، جبکہ 11 ہزار 100 افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے بھی اس عمل کا حصہ بنے، اس کے علاوہ 11 ہزار 416 مکمل طور پر غیر قانونی مقیم افراد کو بھی بے دخل کیا گیا۔

اس وقت بھی 349 افراد مختلف ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں جنہیں مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے، پنجاب بھر میں اس آپریشن کے دوران سکیورٹی ہائی الرٹ رکھا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی غیر قانونی طور پر مقیم فرد باقی نہ رہے۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کے تحت کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا اور سکیورٹی خطرات کو کم کرنا ہے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے۔

افغانستان میں ہونے والی جنگوں، بدامنی اور معاشی بحران کا براہ راست اثر پاکستان پر پڑا، جہاں لاکھوں افراد نے پناہ لی مگر وقت کے ساتھ یہ مسئلہ صرف انسانی نہیں رہا بلکہ سکیورٹی چیلنج میں تبدیل ہو گیا۔

مختلف واقعات اور رپورٹس میں یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ دہشتگردی، سمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے نیٹ ورکس میں سرحد پار روابط موجود رہے ہیں، جس نے ریاست کو سخت فیصلے لینے پر مجبور کیا۔

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور یورپی ممالک غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر نہایت سخت پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں، امریکہ نے نہ صرف اپنی سرحدی نگرانی کو جدید ٹیکنالوجی سے مضبوط کیا بلکہ غیر قانونی داخلے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو بھی عملی شکل دی۔

امریکی حکام کے مطابق ریاست کی اولین ذمہ داری اپنی سرحدوں کا تحفظ، داخلی سلامتی کو یقینی بنانا اور امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہے، بڑے پیمانے پر ڈی پورٹیشن، بائیومیٹرک نگرانی، بارڈر کنٹرول اور قانونی راستوں کے بغیر داخلے پر پابندی جیسے اقدامات کو امریکہ اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کا بنیادی جزو قرار دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اسے ایک جائز اور قانونی پالیسی سمجھا جاتا ہے، نہ کہ امتیازی اقدام، اسی تناظر میں پاکستان کا حالیہ اقدام بھی کسی یکطرفہ یا غیر معمولی پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ عالمی اصول کے مطابق ہے، جہاں ہر ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر غیر قانونی قیام کو ختم کرے اور اپنے قوانین کی عملداری کو یقینی بنائے۔

پاکستان کی پالیسی درحقیقت اسی عالمی ماڈل سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے جسے امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اپنا چکے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان کی موجودہ صورتحال اس بحران کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔ وہاں کی حکومت اپنے شہریوں کو روزگار، سکیورٹی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے رہے۔

اب جب پاکستان اس بوجھ کو مزید برداشت کرنے سے انکار کر رہا ہے تو ذمہ داری کا رخ افغانستان کی طرف بھی جاتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ڈی پورٹ کئے جانے والوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جو ایک انسانی پہلو کو اجاگر کرتی ہے، تاہم ریاستی فیصلے جذبات کے بجائے قانون اور سکیورٹی کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

دنیا کی بڑی طاقتیں جب اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سخت اقدامات کرتی ہیں تو انہیں ریاستی حق سمجھا جاتا ہے، اسی اصول کے تحت پاکستان بھی اپنی سرزمین پر غیر قانونی قیام کو ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

یہ جاری انخلا دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب اپنی پالیسیوں میں ابہام نہیں رکھے گا۔ قانون کی بالادستی قائم ہوگی، غیر قانونی قیام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ریاست اپنی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

اب اصل امتحان افغانستان کا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو واپس لے کر ان کیلئے مؤثر نظام قائم کرتا ہے یا یہ مسئلہ ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔