خلاصہ
- بیروت: (ویب ڈیسک) لبنان کی ننھی شیر خوار بچی تالین سعید جنگ کے دوران پیدا ہوئی اور جنگ کے دوران ہی اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئی۔
جنوبی لبنان کے گاؤں صریفا پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک شیرخوار بچی تالین سعید سمیت ایک ہی خاندان کے متعدد افراد جان سے گئے اور یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ تمام افراد بچی کے والد کے جنازے میں شریک تھے۔
خون آلود پٹیوں میں لپٹی ہوئی سات برس کی علین سعید گزشتہ ہفتے جنوبی لبنان میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں بمشکل زندہ بچ سکیں، وہ اپنے والد کی تدفین کے لیے وہاں موجود تھیں، جبکہ پورے خطے میں جنگ بندی کی امیدیں زندہ ہو رہی تھیں، لیکن ایک نئے حملے میں ان کی چھوٹی بہن اور دیگر رشتہ دار مارے گئے۔

سعید خاندان کے گھر پر یہ حملہ جنوبی لبنان کے گاؤں سریفہ میں ہوا، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا پہلا دن تھا، جسے لبنان میں بہت سے لوگ اپنے ملک پر بھی لاگو ہونے کی امید کر رہے تھے، مگر اس کے برعکس اسرائیلی حملوں میں لبنان بھر میں 350 سے زائد افراد مارے گئے اور سعید خاندان کو مزید چار افراد کی تدفین کرنا پڑی۔
علین سعید کے دادا 64 برس کے ناصر سعید، جو خود بھی اس حملے میں زندہ بچ گئے، انہوں نے کہا کہ سنا جنگ بندی ہے، ہم بھی سب کی طرح گاؤں گئے، ہم تابوت کے پاس گئے تاکہ دعا پڑھیں اور واپس گھر جائیں کہ اچانک ہمیں ایسا لگا جیسے ہم کسی طوفان کی لپیٹ میں آ گئے ہوں۔
وہ رشتہ داروں کے ساتھ جنوبی بندرگاہی شہر صور گئے تاکہ سبز کپڑے میں لپٹی لاشیں وصول کریں، ان میں سے ایک چھوٹی سی لاش ان کی پوتی تالین کی تھی، جو علین کی بہن تھیں، وہ ابھی دو سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں۔
سر پر اور دائیں ہاتھ پر پٹیوں اور چہرے پر خراشوں کے ساتھ ناصر سعید خاموشی سے سوگ منا رہے تھے، جبکہ اردگرد موجود خواتین آسمان کی طرف منہ کر کے آہ و بکا کر رہی تھیں۔
لبنان میں حالیہ جنگ کا آغاز دو مارچ کو اس وقت ہوا جب لبنانی مسلح گروہ حزب اللہ نے اپنے سرپرست ایران کی حمایت میں اسرائیلی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دیں، جن میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد کی اموات ہو چکی ہیں، جن میں 165 بچے اور تقریباً 250 خواتین شامل ہیں۔
تالین کے دادا ناصر سعید نے کہا کہ یہ انسانیت نہیں ہے، یہ جنگی جرم ہے، انسانی حقوق کہاں ہیں؟ اسرائیل میں اگر ایک بچہ بھی زخمی ہو جائے تو پوری دنیا کھڑی ہو جاتی ہے، کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ ہم بھی ان جیسے ہی ہیں!
تالین 2024 میں پیدا ہوئی تھیں، اس وقت حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید جھڑپوں کا ایک نیا دور جاری تھا۔غنوی کے والد تالین کے نانا محمد نزال نے کہا کہ وہ جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی مر گئی۔