خلاصہ
- تہران: (ویب ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایرانی حکام، سفارت کار اور قومی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی سب ایک مشترکہ مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جو ایرانی عوام کی عزت، وقار اور قومی خودمختاری کا دفاع ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں عباس عراقچی نے ایک ایسی تصویر شیئر کی جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہلاک ہونے والی طالبات کی تصاویر کو ورلڈ کپ کے فٹبال مناظر کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ فٹبال کے میدان سے لے کر مذاکراتی میز اور میدانِ جنگ تک، ایک ایرانی کی حیثیت سے ہمارا ہر قدم ایک بڑی جدوجہد کا حصہ ہے، جس کا مقصد اپنے عزیز عوام کی عزت اور وقار کا دفاع کرنا ہے۔
عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ میں جاری امریکہ اور ایران مذاکرات کے بارے میں ثالث ممالک نے پیش رفت کی اطلاع دی ہے، اسی دوران ایران نے اپنے ورلڈ کپ میچ میں بیلجیئم کے خلاف مقابلہ برابر کر لیا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے روز جنوبی ایرانی شہر مناب میں واقع لڑکیوں کے سکول پر میزائل حملہ کیا گیا تھا، اس حملے میں تقریباً 160 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر طالبات اور ان کی اساتذہ شامل تھیں۔
ایرانی حکام اس حملے کو جنگ کے دوران پیش آنے والے مہلک ترین واقعات میں سے ایک قرار دیتے ہیں، جبکہ یہ واقعہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا تھا۔