خلاصہ
- ہوچی منہ: (ویب ڈیسک) ویتنام کے سب سے بڑے شہر ہو چی منہ سٹی سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ٹیو نگوین باؤ نگوک غزہ یکجہتی مہم میں شامل ہونے والی پہلی ویتنامی بن گئی۔
ٹیو نگوین باؤ نگوک (ایشلے) اس وقت سوشل میڈیا پر نمایاں شخصیت بن گئیں جب وہ غزہ کا محاصرہ توڑ کر انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل ہونے والی پہلی اور واحد ویتنامی شہری قرار دی گئیں۔
نگوک ایشلے کا کہنا ہے کہ ایک ویتنامی ہونے کے ناطے، جس کے ملک نے مغربی طاقتوں خصوصاً امریکا کی جنگ اور مظالم کا سامنا کیا، وہ فلسطینی عوام کے دکھ درد کو بخوبی سمجھتی ہیں اور ان سے گہری ہمدردی رکھتی ہیں۔
ان کا یہ بیان ویتنام میں تیزی سے وائرل ہوگیا اور ہزاروں نوجوان ان کے سفر کو سوشل میڈیا پر فالو کرنے لگے، ان کی حمایت میں پیغامات، تصاویر اور ڈیجیٹل آرٹ بھی شیئر کیا گیا۔
18 مئی کو غزہ فلوٹیلا کے لائیو ٹریکر نے اطلاع دی کہ قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں ان کی کشتی کو اسرائیلی فورسز نے روک لیا ہے، اس کے فوراً بعد باؤ نگوک کی پہلے سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو جاری کی گئی، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے اور ویتنامی حکومت سے ان کی رہائی کے لیے مداخلت کی اپیل کی۔
ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر باؤ نگوک کو رہا کرو کی مہم شروع کردی اور ویتنامی سفارت خانے کو دو ہزار سے زائد درخواستیں بھیجیں تاکہ حکومت ان کی رہائی کے لیے اقدامات کرے۔
ویتنام کے سرکاری میڈیا نے دو روز تک اس واقعے پر مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، اس کے برعکس ملائیشیا، انڈونیشیا اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کی گرفتاری پر اسرائیل کی مذمت کی۔
بعد ازاں حکومت کے حامی سوشل میڈیا صارفین نے باؤ نگوک پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی فلسطین نواز سرگرمیاں ویتنام کی قومی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہیں، بعض افراد نے ان کی شہریت پر بھی سوال اٹھائے، یہاں تک کہ ان کے ویتنامی پاسپورٹ کی ویڈیو کو بھی مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
دو روز بعد ویتنامی سفارت خانے نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ وہ باؤ نگوک اور دیگر فلوٹیلا شرکا کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا تھا، جس کے بعد انہیں ترکیہ کے شہر استنبول منتقل کر دیا گیا۔
ماہرین کے مطابق باؤ نگوک کا معاملہ جدید ویتنام کی تاریخ میں منفرد ہے، کیونکہ اس سے قبل کسی ویتنامی شہری کی بیرون ملک ایسی سیاسی سرگرمی سامنے نہیں آئی تھی جس کے لیے حکومت کو سفارتی مداخلت کرنا پڑی ہو۔
باؤ نگوک نے بتایا کہ وہ پہلے کبھی سیاسی کارکن نہیں تھیں، ان کی واحد سماجی سرگرمی سکول کے زمانے میں جانوروں کے لیے ایک شیلٹر چلانا تھی، وہ سنگاپور کی نین یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی میں ماسٹرز کر رہی تھیں جب 7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ میں اسرائیلی حملوں نے انہیں شدید متاثر کیا۔
انہوں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی، کیونکہ ان کے بقول یونیورسٹی کے اسرائیل سے تعلقات پر انہیں اعتراض تھا، وطن واپس آکر انہوں نے فلسطین کے لیے فنڈ ریزنگ مہم شروع کی اور 2024 کے آغاز میں ویٹ فار فلسطین نامی تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کے آن لائن حامیوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کر گئی۔
ابتدا میں وہ اپنی شناخت چھپا کر کام کرتی رہیں، لیکن غزہ کے الاقصیٰ ہسپتال پر اسرائیلی حملے اور ایک زخمی فلسطینی نوجوان کے زندہ جلنے کی ویڈیو دیکھنے کے بعد انہوں نے کھل کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی پہلی عوامی ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا کوئی حق حاصل نہیں، کسی قابض طاقت کو ایسا حق نہیں ہوتا، نسل کشی فوراً بند کی جائے۔
یہ ویڈیو بھی وائرل ہوگئی اور ویتنام میں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے والی ایک نمایاں آواز بن گئی۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اگر غزہ میں ہونے والی کارروائیوں پر عالمی سطح پر مؤثر احتساب نہ ہوا تو دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنے شہریوں کے خلاف اسی طرز کے اقدامات کو جائز سمجھ سکتے ہیں۔
باؤ نگوک کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا آزادی کی جدوجہد کی ایک مضبوط تاریخ رکھتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطین اور روہنگیا کے مسائل کو ہماری مشترکہ علاقائی شناخت اور آزادی کی جدوجہد کا حصہ بنایا جائے۔