شام کی نئی پارلیمان کی خواتین ارکان: اداکارہ، انجینئر، کرد رہنما اور ایک جنگجو کی بیوہ

شام کی نئی پارلیمان کی خواتین ارکان: اداکارہ، انجینئر، کرد رہنما اور ایک جنگجو کی بیوہ

شام کی 207 رکنی موجودہ پارلیمان میں خواتین کی تعداد 22 ہے، جو کل نشستوں کا صرف 10 فیصد سے کچھ زیادہ بنتی ہے، یہ تناسب سابق صدر بشار الاسد کے دور کی پارلیمان کے تقریباً برابر ہے، بشار الاسد کی حکومت 2024 میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک جاری خانہ جنگی کے بعد ختم ہو گئی تھی۔

36 سالہ معروف ٹی وی اداکارہ روزینہ لازقانی، جو شامی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے لیے شہرت رکھتی ہیں، اس وقت سیاست میں آئیں جب صدر احمد الشرع نے انہیں عبوری پارلیمان کے لیے نامزد کیے گئے 70 ارکان میں شامل کیا

38 سالہ میڈونا بشارہ، جو پارلیمان کی نائب سپیکرز میں شامل ہیں، تقرری سے قبل سول انجینئرنگ کی پروفیسر تھیں، انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی اور ذمہ داری، دونوں کا احساس ہو رہا ہے، اگرچہ خواتین کی تعداد شامی معاشرے میں ان کے اصل مقام کی مکمل عکاسی نہیں کرتی، لیکن یہ ایک اچھا آغاز ضرور ہے۔

56 سالہ فصلہ یوسف کو شمال مشرقی صوبے الحسکہ کے انتخابی ادارے نے پارلیمان کے لیے منتخب کیا، وہ کردش نیشنل کونسل کی بھی رکن ہیں، جو کرد جماعتوں کا ایک اتحاد ہے، یہ اتحاد بشار الاسد کی حکومت کا مخالف رہا، تاہم شمالی اور شمال مشرقی شام میں قائم کرد انتظامیہ کا حصہ نہیں تھا۔

48 سالہ ناول نگار نور جندلی کو صدر احمد الشرع نے حمص کی نمائندگی کے لیے نامزد کیا، جو ماضی میں حکومت مخالف احتجاج کا ایک اہم مرکز رہا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پارلیمنٹ تمام شامی شہریوں کے درمیان مکالمے کا پلیٹ فارم بنے، بشار الاسد کی طویل عرصے سے مخالف رہنے والی نور جندلی محاصرے اور جلاوطنی کا سامنا کر چکی ہیں اور 20 سے زائد کتابیں لکھ چکی ہیں۔

مروت طوطو، جنہیں بھی صدر احمد الشرع نے نامزد کیا، تجارت اور معاشیات میں ڈگری رکھتی ہیں اور ادلب میں 13 برس تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہیں، وہ شام کی تاریخ کی پہلی خاتون رکنِ پارلیمان ہیں جو مکمل چہرہ ڈھانپنے والا اسلامی نقاب پہنتی ہیں۔

ان کے شوہر ابو عمر سراقب اسلام پسند اور جہادی گروہوں کے ایک اتحاد کے کمانڈر تھے، جس نے 2015 میں ادلب کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ وہ اگلے سال ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔

خیال رہے کہ پارلیمان کی ایک اور خاتون رکن عائشہ الدبس ہیں، جو نئی حکومت کی جانب سے سرکاری عہدہ سنبھالنے والی پہلی خاتون تھیں۔

وہ چند ماہ تک خواتین کے امور کے دفتر کی سربراہ رہیں، تاہم زیادہ شہرت انہیں اس بیان کے باعث ملی جس میں انہوں نے خواتین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی خدا داد فطرت کی حدود سے آگے نہ بڑھیں اور خاندان میں اپنے تعلیمی و تربیتی کردار کو پہچانیں، جس پر ملک بھر میں شدید بحث چھڑ گئی تھی۔